رسائی کے لنکس

افغانستان پر امریکی حکام نے حد سے زیادہ خود اعتمادی اور دروغ گوئی سے کام لیا: سیگار


یو ایس اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن جان سوپکو نے کہا ہے کہ مبالغہ آرائی کی گئی۔ حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کی گئی۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی حکومت کے افغانستان میں تعمیرِ نو کے لیے نگران ادارے 'سیگار' نے کہا ہے کہ امریکہ کا ملک سے باہر فوجی طاقت استعمال کرنے کا وہی نتیجہ نکلے گا جو افغانستان کے اندر دو دہائیوں پر محیط جنگ کا نکلا ہے۔

ادارے نے ملک کے اعلیٰ ترین حکام کی اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے میں بار بار ناکامی کا بھی حوالہ دیا ہے۔

یو ایس اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سیگار) جان سوپکو نے جمعرات کو صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ایک بے باک تجزیہ کیا اور محکمۂ دفاع کے اعلیٰ ترین حکام اور سفارت کاروں پر الزام عائد کیا کہ وہ خود سے اور امریکہ کی عوام سے جھوٹ پر جھوٹ بولے رہے ہیں۔

جان سوپکو نے وائس آف امریکہ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’مبالغہ آرائی کی گئی۔ حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کی گئی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے فوجی جنرلز نے ایسا کیا۔ سفارت کاروں نے ایسا کیا۔ تمام اعلیٰ حکام نے ایسا کیا۔ وہ امریکہ کی کانگریس اور عوام کو بتاتے رہے کہ پانسہ پلٹ رہے ہیں۔

نگران ادارے سیگار کے سربراہ جان ایف سوپکو (اے پی: فائل فوٹو)
نگران ادارے سیگار کے سربراہ جان ایف سوپکو (اے پی: فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق ’ڈیفنس رائٹرز گروپ' سے گفتگو کرتے ہوئے جان سوپکو نے کہا کہ امریکہ کی افغانستان میں مؤثر اور منظم فوج کی تشکیل میں ناکامی کی اگرچہ بہت سی وجوہات ہیں۔ بعض لوگ اس حد تک پر اعتماد تھے کہ ہم 2001 میں ٹوٹ پھوٹ کے شکار ملک کو ناروے بنا دیں گے۔

ان کے الفاظ میں حد سے زیادہ خود اعتمادی کے علاوہ دوسرا عنصر تھا ’دروغ گوئی‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے چوٹی کے فوجی حکام جانتے تھے کہ افغانستان کی فوج کس قدر کمزور ہے البتہ انہوں نے مسائل کو دبائے رکھنے کی کوشش کی۔

’اہداف تبدیل کیے گئے‘

اسپیشل انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے کہا کہ جب بھی افغانستان کی فوج سے مسئلہ ہوا اہداف تبدیل کر لیے گئے۔

’’امریکہ کی فوج نے اہداف تبدیل کیے تاکہ اپنی کامیابی دکھانا آسان ہو جائے۔ اور جب وہ یہ اہداف بھی حاصل نہ کر سکے تو انہوں نے تجزیے کے عمل کو کلاسیفائیڈ کر دیا۔‘‘

جان سوپکو نے خبردار کیا کہ مسئلے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ افغانستان میں کامیابی کے لیے واشنگٹن نے گزشتہ 20 برس میں طویل مدت یا پائیدار کامیابی کے لیے منصوبہ بندی ہی نہیں کی۔

’’فور اسٹار جنرلز، فور اسٹار فوجی حکام، فور اسٹار سفیروں نے بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یو ایس ایڈ پر دباؤ ڈالا کہ وہ کم مدتی نظام الاوقات کے اندر کامیابیاں دکھائیں۔ حالاں کہ وہ خود جانتے تھے کہ یہ کبھی کارگر نہ ہو گا۔ ان کم مدتی اہداف کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں سوائے ایک سیاسی حقیقت کے۔ اس وقت جو کچھ بھی مقبول عام ہے، ناکامی کو ہمارا مقدر بنا رہا ہے۔‘‘

جان سوپکو نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ مسئلہ صرف افغانستان میں درپیش نہیں ہے۔ ہم جہاں بھی گئے، وہاں آپ کو یہ مسائل نظر آئیں گے۔

جان سوپکو نے یہ بیان جمعرات کو ایسے موقع پر دیا ہے جب ان کے دفتر نے افغانستان سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے اور وہاں زمینی صورتِ حال کو بہت نازک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغان حکومت کو اپنی بقا کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پینٹاگون اور محکمۂ خارجہ کے حکام نے جان سوپکو کی تنقید کا فوری طور پر جواب نہیں دیا ہے البتہ وہ ماضی میں بار بار افغانستان اور دیگر جگہوں پر امریکی کوششوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکہ کے سب سے سینئر فوجی افسر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا تھا کہ افغانستان کی فورسز بہترین تریبت رکھتی ہیں اور بہتر انداز سے مسلح ہیں۔ اس کے باوجود کہ طالبان میدان پر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG