رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستانی پارلیمان ڈیجیٹل میڈیا پر قدغن کی سفارشات مسترد کر دے'


(فائل فوٹو)

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر' (آر ایس ایف) نے پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر' کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیمرا نے آٹھ جنوری کو اپنی ویب سائٹ پر اس حوالے سے تجاویز پیش کی۔ اور اس پر عوام سے رائے طلب کی گئی ہے۔

آر ایس ایف کے مطابق یہ تجاویز پہلے سے حکومتی ایجنسیوں کو آن لائن سنسر شپ کے لیے دیے گئے اختیارات میں اضافہ کردیں گی۔ حکومت کوشش کررہی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے چلنے والے ویڈیو پلیٹ فارمز یوٹیوب، ویمیو اور نیٹ فلیکس وغیرہ کو کنٹرول کیا جائے۔

آر ایس ایف ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینئیل بسٹرڈ کہتے ہیں کہ دباؤ اور حراسگی کے ذریعے پاکستانی حکام صحافیوں کو پہلے ہی سنسر شپ پر مجبور کر چکے ہیں اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے بھی آزاد آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی پارلیمان کو کہتے ہیں کہ وہ پیمرا کی طرف سے دی گئی ان تجاویز کو مسترد کر دیں۔ پاکستان کے عوام کو آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت جو آزادی اظہار رائے دی گئی اس پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔

آر ایس ایف نے پیمرا کی طرف سے ویب چینلز کی لائسنسنگ کی تجویز کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ لائسنس کے لیے بھاری فیس کی تجویز سے سنسر شپ کی خواہش نظر آتی ہے۔

پیمرا کی طرف سے دی گئی تجاویز کے مطابق نیوز ویب ٹی وی کے لیے ایک کروڑ اور تفریحی ویب ٹی وی کے لیے 50 لاکھ روپے لائسنس فیس مقرر کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

آر ایس ایف نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران میڈیا پر پابندیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ جیو نیوز کے ایک پروگرام کو باقاعدہ رکوا دیا گیا تھا۔ اسی طرح تین ٹی وی چینلز اب تک نیوز، 24 نیوز اور کیپیٹل ٹی وی کی نشریات بغیر وجہ بتائے بند کردی گئی تھیں۔

آر ایس ایف کا کہنا تھا کہ پیمرا کا مسئلہ اس کی اپنی آزادی ہے، اس کے ممبرز کی تعیناتی کا طریقہ کار بہت پیچیدہ ہے۔ اور یہ تمام ممبران پاکستان کی طاقت ور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے سامنے مزاحمت کرنے سے قاصر ہیں۔

پیمرا کی تجاویز کیا ہیں؟

پیمرا نے آٹھ جنوری کو اپنی ویب سائٹ پر ایک مشاورتی پیپر اپ لوڈ کیا۔ اس پیپر میں ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی (اوور دی ٹاپ ٹی وی) کے مواد کو کسی ضابطے کے تحت لانے کے بارے میں ابتدائی معلومات، تجاویز اور ان چینلز کے حوالے سے مجوزہ شرائط بتائی گئی ہیں۔

اسی پیپر میں فریقین سے 14 فروری تک تجاویز بھی مانگی گئی ہیں۔ پیمرا کے مطابق نہ صرف مقامی فریقین بلکہ نیٹ فلیکس سمیت کئی بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے بھی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

پیمرا نے تجویز کیا ہے کہ اس کے لیے سب سے پہلے باقاعدہ کمپنی سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ساتھ رجسٹر کرانا ہو گی۔ اس کمپنی کا ابتدائی سرمایہ 30 لاکھ روپے تک ہونا چاہیے جبکہ کمپنی کے پاس اپنا براڈکاسٹ سیٹ اپ بھی موجود ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے بھی دو درجہ بندیاں کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ویب ٹی وی ہے جبکہ دوسری درجہ بندی میں یوٹیوب یا کسی بھی ویب سائٹ کے ذریعے ویڈیو مواد نشر کرنے والوں کی ہے۔

جو کمپنی بھی لائسنس کے لیے درخواست دے گی اسے ناقابل واپسی 50 ہزار روپے پروسیسنگ فیس ادا کرنا ہو گی۔ اسی طرح او ٹی ٹی لائسنس کے لیے 50 لاکھ روپے، نیوز ویب ٹی وی کے لیے ایک کروڑ روپے جبکہ نیوز کے بغیر ویب ٹی وی کے لیے بھی 50 لاکھ روپے فیس ادا کرنا ہو گی۔ سالانہ فیس اس کے علاوہ ہو گی۔

واضح رہے کہ یہ قانون ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گا۔ یہ قانون اگر نافذ ہو گیا تو ویب ٹی وی چلانے والی کمپنیوں کو چینل بنانے کے لیے لائسنس حاصل کرنا ہو گا اور اس کی فیس 10 لاکھ روپے ہو گی۔ اس قانون کے آرٹیکل 5.4 کے تحت کوئی یوٹیوب چینل کسی پالیسی کے خلاف عمل کرتا پایا گیا تو اسے بند کرنے کا اختیار بھی پیمرا کے پاس ہو گا۔

پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں، بشمول میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی، پاکستان پریس فاؤنڈیشن، گلوبل نیبرہوڈ فار میڈیا انوویشن، سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشییٹوز اور نیا دور میڈیا سمیت دیگر نے بھی اس مجوزہ پالیسی کی شدید مخالفت کی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنا پیمرا کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی پالیسی عوام کے منتخب نمائندوں کی طرف سے آنی چاہیے۔

ایک مشترکہ بیان میں ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن پر بنیادی سطح کی قانونی مشاورت بھی نہ کی گئی ہو۔

صحافیوں کا ردعمل

پاکستان میں صحافیوں کی مختلف تنطیموں بشمول پاکستاان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے اس مجوزہ قانون کو مسترد کیا ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

سینئر صحافی اور یوٹیوب چینل چلانے والے مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ اس قانون کا مقصد ہر مخالف آواز کو بند کرنا ہے۔ مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ ملک کے بڑے نیوز چینلز کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے مکمل طور پر کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ اور اب اس قانون کے ذریعے سوشل میڈیا کو بھی دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے قانون کے ذریعے 'سٹیزن جرنلزم' کرنے والے افراد کو بلیک میل کیا جائے گا اور ان سے اپنی مرضی کا مواد نشر کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

مطیع اللہ جان نے کہا کہ اس کام میں پاکستان کے میڈیا مالکان بھی شامل ہیں کیونکہ اس وقت ان کو سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا سے ہے۔ جہاں ہر آواز اور ہر خبر سنی جاسکتی ہے۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کے میڈیا مالکان نے ہمیشہ سودے بازی کی اور اس بار بھی وہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔

نجی چینل 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصارنقوی کہتے ہیں کہ حکومت نے پہلے دو دھاری تلوار سے پاکستانی میڈیا کو کنٹرول کیا اور اب ان کا نشانہ سوشل میڈٰیا ہے۔

انصار نقوی کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا پر ہر کسی کو آزادی تھی کہ وہ اپنی بات کہہ سکے۔ بھارت میں بھی شہریت قانون کے خلاف موثر آواز اُٹھانے میں ڈیجیٹل میڈیا پیش پیش ہے۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے اسد بیگ کہتے ہیں کہ پیمرا کا مشاورتی پیپر ایک مضحکہ خیز دستاویز ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ پیمرا کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کام کیسے کرتا ہے۔ ہمارے پڑوس میں چین اور بھارت میں اس میڈیم کے ذریعے وہاں کے لوگ بھاری رقم کما کر اپنی ملک کی معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد ملک میں زرمبادلہ لانے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیکن حکومت بجائے اُنہیں سہولیات دینے کے اُن پر بھاری فیس عائد کر کے پابندیاں لگانا چاہتی ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے تاحال اس ضمن میں کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا۔ البتہ حکومتی حلقوں کا یہ موقف ہے کہ یہ صرف ایک مشاورتی پیپر ہے۔ اس ضمن میں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG