رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں معذور افراد کے لیے آسانیاں کب ہوں گی؟


ہر سال دسمبر میں معذوروں کے حقوق اور اُن کے مسائل پر روشنی ڈالنے کے لیے تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ کیوں کہ سال کے اس آخری ماہ کی تین تاریخ کو معذوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

معذوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) 'جنت فاؤنڈیشن' نے بھی وہیل چیئرز استعمال کرنے والے معذوروں کے ایک مارچ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد اُنہیں سڑک پار کرتے ہوئے، فُٹ پاتھ پر چلنے کے دوران اور روزمرہ کی نقل و حرکت میں پیش آنے والے مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔

اس غیر سرکاری تنظیم کی بانی عائشہ ملک اعوان خود بھی وہیل چیئر استعمال کرتی ہیں۔

عائشہ ملک اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ اور اُن جیسے تمام افراد پاکستان کے شہری ہیں۔ وہ مُلک پر بوجھ بننے کی بجائے بہتر روزگار سے خود اپنے اخراجات اُٹھانا چاہتے ہیں۔ جس کے لیے وہ گھر بیٹھے نہیں رہ سکتے۔ بلکہ اُنہیں باہر نکلنا پڑتا ہے اور یہیں سے اُن کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک جگہ سے دوسرے مقام تک سفر میں اُن کی راہ میں معذروی نہیں بلکہ وہ روڈ انفراسٹرکچر حائل ہوتا ہے۔ جو عام پاکستانی شہریوں کے لیے تو موضوعِ بحث ہے۔ لیکن معذوری میں مُبتلا افراد کے لیے کسی صورت قابلِ استعمال نہیں ہے۔

ان کے بقول سب سے پہلے تو سڑک پار کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ جہاں تیزی سے گزرتی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، آٹو رکشہ وغیرہ رُکنا تو درکنار، رفتار بھی آہستہ کرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔

ذہنی یا جسمانی معذوری میں مبتلا خصوصی افراد اپنی زندگی آسان بنانے کے لیے وہیل چیئر سمیت دیگر سہارا دینے والے آلات مہنگے داموں خرید تو لیتے ہیں۔ لیکن جب اُنہیں استعمال کرتے ہوئے وہ عوامی مقامات کا رُخ کرتے ہیں تو ان جگہوں پر خصوصی افراد کے لیے انتظامات نہ ہونے سے ان کے لیے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

عائشہ ملک اعوان پنجاب حکومت کی خصوصی افراد کے لیے منگوائی گئی اسپیڈو بس کے خلاف بھی آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔

اس حوالے سے عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ کیا معذوروں کے لیے کوئی آٹو رکشہ، بائیک یا گاڑی ہے؟ کچھ بھی نہیں ہے۔

اسپیڈو بسوں پر وہ کہتی ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی سے مزین بسیں منگوانے والوں کا فرض تھا کہ وہیل چیئرز استعمال کرنے والے پانچ سے چھ معذور افراد کو بُلاتے۔ اُن سے معلوم کر لیتے کہ آپ کی کیا ضرورت ہے۔ حکومت نے تو باہر سے درآمد کرانی تھیں خود تو بنانی نہیں تھیں۔ تو درست چیز درآمد کرائی جاتی۔ 200 بسیں نہ منگواتے، 50 بسیں منگوا لیتے لیکن ٹھیک تو منگواتے۔

ان بسوں میں خامی کی نشان دہی کرتے ہوئے عائشہ ملک اعوان کا کہنا تھا کہ ان بسوں پر معذور افراد کے چڑھنے کے لیے ریمپ لگانے چار افراد آتے ہیں۔ وہ چار افراد پھر بھی یہ ریمپ درست نہیں لگا پاتے۔ پھر دو بندے معذور افراد کو اُٹھانے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اُن سے ہم اُٹھائے نہیں جاتے۔ اسی لیے ڈرائیور بس کو روکنا بھی پسند نہیں کرتے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رُکن ڈاکٹر سیمی بخاری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خصوصی افراد کی ضروریات سے بخوبی واقف ہے۔ اسی لیے خصوصی افراد کی بحالی کے لیے اہم اقدامات کرنے جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد کے پارکس میں ریمپ بنائے جائیں گے تاکہ تفریح گاہوں تک معذور افراد کی رسائی آسان ہو۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ذریعے ایسے افراد کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ تا کہ انہیں ایک دائرہ کار میں لایا جا سکے اور مسائل کا تعین کیا جا سکے۔

ڈاکٹر سیمی بخاری نے مزید کہا کہ معذور افراد کے لیے کاروبار شروع کرنے کے حوالے سے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر معذور فرد کو فی کس 2000 روپے ماہانہ وظیفہ دینا بھی زیرِ غور ہے۔

وہیل چیئر استعمال کرنے والی خاتون سیدہ امتیاز فاطمہ کا کہنا ہے کہ ہر دور میں حکومت معذوروں کی بحالی کے دعوے کرتی ہے۔ لیکن عمل در آمد نہ ہونے پر ساری اُمیدیں بکھر جاتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معذور افراد کے لیے تو سڑکیں استعمال کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اکثر ڈھلوان والے مقامات پر تو ریمپ بنائے ہی نہیں جاتے۔ یا پھر تو وہ اتنے سیدھے ہوتے ہیں کہ اُس کے اُوپر چڑھنا اُترنا مُشکل ہوتا ہے کہ ڈر لگتا ہے کہ وہیل چیئر اُلٹ جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض مقامات پر فٹ پاتھ پر لوگوں نے اپنی گاڑیاں ایک پہیہ اُوپر کر کے کھڑی کی ہوتی ہیں۔ جیسے یہ ہمارے لیے بنے ہی نہ ہوں۔ بعض جگہوں پر فُٹ پاتھ پر گٹر کُھلے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معذور افراد کے لیے پارکس قابل رسائی ہیں نہ اسپتال اورنہ ہی مارکیٹ اور ریسٹورنٹس۔ جب کہ ٹرین میں سفر تو ممکن ہی نہیں ہے۔ اُس پر تو عام افراد مُشکل سے چڑھ پاتے ہیں۔ معذور افراد کا جانا تو مُشکل بات ہے۔

معذور افراد کی بحالی کے مرکز میں کام کرنے والے ہمایوں ظہیر پولیو کا شکار ہیں۔ لیکن وہ اپنے دفتر اور گھر کے کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔ وہ وہیل چیئر بھی استعمال نہیں کرتے۔ یعنی اپنے پاؤں پر چل سکتے ہیں، لیکن پولیو کے باعث دونوں ٹانگوں میں فرق ہونے کے باعث وہ لنگڑا کر چلتے ہیں۔

ہمایوں ظہیر کہتے ہیں کہ معمولی معذوری کے باوجود اُنہیں لاہور جیسے بڑے شہر کے فُٹ پاتھ اور گرین بیلٹس اپنے لیے موزوں نہیں لگتے، کیوں کہ وہ سڑک سے اس قدر اُونچے ہوتے ہیں کہ اُنہیں فُٹ پاتھ پر چڑھنے کے لیے کسی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص مدد کے لیے آس پاس نہ ہو تو اُنہیں جُھک کر زمین پر ہاتھ رکھ کر پیدل چلنے کے لیے سڑک کے ساتھ بنی جگہ پر چڑھنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے جو کام ہو رہا ہے۔ اُس میں تب تک بہتری نہیں آ سکتی جب تک ہماری نمائندگی اسمبلی میں نہیں ہو گی کیوں کہ لوگوں کو نہیں معلوم کہ ہماری ضرورت کیا ہے۔ ایشوز کیا ہیں۔

اسپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ پنجاب کی ڈپٹی ڈائریکٹر زیب النسا عوامی رویوں پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جہاں حکومت نے وہیل چیئر کا نشان بنایا ہے، تو مجھے گاڑی وہاں پارک نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ریمپس بنائے بھی ہیں تو وہاں ہم اپنے نارمل بچوں کو چھوٹ دے دیتے ہیں کہ اُس پر چڑھیں اور کھیل کود کریں۔ اُس کے نتیجے میں وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم حکومت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ ہر کام وہ کرے۔ اسپیڈو بس روکنے کی کچھ ذمہ داری ڈرائیورز یا اُس کے کنڈیکٹر کی بھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG