رسائی کے لنکس

logo-print

2014ء میں انسانی حقوق کی صورتحال غیر تسلی بخش رہی: رپورٹ


یومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2014ء میں 828 خواتین کو جنسی تشدد کا شنانہ بنایا گیا جب کہ غیر کے نام پر 923 خواتین کو قتل کیا گیا

انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی ایک موقر تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ گزشتہ برس بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ملک کے لیے بہتر ثابت نہیں ہو سکا۔

تنظیم کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ 2014ء میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافے کے علاوہ مسلک کی بنیاد پر مختلف مسالک کے لوگوں کی صورتحال میں ابتری دیکھی گئی۔

رپورٹ میں امن و امان، خواتین، بچوں اور قیدیوں کے حقوق کے علاوہ مذہبی، سیاسی صورت حال اور اظہار رائے کی آزادی سمیت شہریوں کے حقوق کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

بتایا گیا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے 1206 واقعات میں 1723 افراد ہلاک اور تین ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔ ان واقعات میں 26 خودکش دھماکے بھی شامل ہیں۔

فرقہ وارانہ تشدد کے 144 واقعات رونما ہوئے جب کہ غیر مسلموں کی 11 عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان میں ذکری فرقے کے چھ افراد دو مختلف حملوں میں مارے گئے جب کہ 11 احمدیوں کو بھی ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2014ء میں 828 خواتین کو جنسی تشدد کا شنانہ بنایا گیا جب کہ غیرت کے نام پر 923 خواتین کو قتل کیا گیا۔ لگ بھگ 600 خواتین اور بچیوں کو اجتماعی زیادی کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ برس ملک کے اقتصادی مرکز میں 134 سیاسی کارکنوں قتل ہوئے جب کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران رینجرز اور پولیس کے 160 اہلکار مارے گئے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ سال حکام کے زیر تحویل 63 افراد بشمول چار خواتین ہلاک ہوئے۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کے علاوہ مختلف واقعات میں ان کی ہلاکتوں کا بھی رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 12 ڈاکٹر، 13 وکیل اور صحافتی برادری سے تعلق رکھنے والے 14 افراد موت کا شکار ہوئے جب کہ انسداد پولیو سے وابستہ رضا کار اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں 45 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اس رپورٹ میں دیگر کئی شعبوں کے بارے میں بھی اعداد وشمار فراہم کیے گئے ہیں اور تنظیم سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو بنیادی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG