رسائی کے لنکس

logo-print

فرض کی بجاآوری میں جان قربان کرنے والے امدادی کارکنوں کو خراج عقیدت


ڈبلیو ایچ او نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2014 کے دوران 32 ممالک میں براہ راست حملوں میں 603 طبی کارکن ہلاک جبکہ 958 زخمی ہوئے۔

انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والے تقریبات میں بین الاقوامی اداروں نے ان ہزاروں امدادی کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے فرائض کی بجاآوری کے دوران یا تو اپنی جان گنوا دی یا وہ زخمی ہو گئے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 2008 میں 19 اگست کو انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے طور پر منانے کی منظور دی تھی جو کہ 2003 میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے مشن ہیڈ کواٹر پر ہوئے دہشت گرد حملے کی یاد منانے کے لئے تھا۔ اس حملے میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ سرگئی ویرا دی میلو سمیت عملے کے 22 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی، جو دی میلو کے پریس سیکرٹری تھے، نے جینیوا میں کہا کہ وہ دن انہیں اب بھی یاد ہے۔

" یہ اقوام متحدہ کے تحفظ اور اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کے کام میں انحطاط کا آغاز تھا جب ہمیں یہ محسوس ہوا کہ ہم دہشت گردی کا ہدف بن گئے ہیں"۔

اس کے بعد سے ہنگامی حالات میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ عام ہو گئے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی طرف سے صحت کے کارکنوں اور صحت کی سہولتوں پر ہونے والے حملوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے رپورٹ دی ہے کہ 2014 کے دوران 32 ممالک میں براہ راست حملوں میں 603 طبی کارکن ہلاک جبکہ 958 زخمی ہوئے۔

ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی خطرات سے نمٹنے اور انسانی ہمددری کی کارروائیوں کے رابطہ کار روڈی کونکس کا کہنا ہے کہ کچھ شورش زدہ علاقوں میں طبی کارکنوں اور طبی مراکز پر مسلسل اور مستقل حملوں کی زد میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "حال ہی میں مثال کے طور پر 30 اسپتالوں پر حملے کئے گئے، 14 طبی کارکن زخمی ہوئے جب کہ ان میں سے پانچ ہلاک ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ صرف یمن میں نہیں ہو رہا ہے۔ شام میں، عراق میں جمہوریہ وسطی افریقہ میں، یوکرین میں، جنوبی سوڈان میں اسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں اور طبی کارکن اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا کام کر رہے ہیں جس کا مقصد لوگوں کو صحت کی سہولیتں فراہم کرنا اور ان کی صحت کو یقینی بنانا ہے"۔

کونکس نے کہا کہ ،"ان حملوں کو بند ہونا چاہیے"۔

تاہم یہ صرف شورش زدہ علاقے ہی نہیں جہاں طبی کارکنوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ڈبلیو ایچ کا مغربی افریقہ کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے 875 طبی کارکنوں میں سے ںصف ہلاک ہو گئے۔ گنی کے دیہاتوں میں اس مہلک بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے والے متعدد افراد ہلاک ہوئے جن میں طبی کارکن بھی شامل تھے۔

دنیا بھر میں پولیو وائرس کے کیسوں میں 99 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے لیکن اس کامیابی کی ایک بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔

ڈبلیو ایچ کی رپورٹ کے مطابق انسداد پولیو کی مہم میں حصہ لینے والے 100 سے زائد کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں ننھے بچوں کو اس معذور کر دینے والی بیماری سے بچاؤ کے لئے پولیو ویکسین پلانے والے 32 کارکن ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG