رسائی کے لنکس

logo-print

یمن میں ہیضے سے سیکڑوں افراد ہلاک


صنعا کے ایک اسپتال میں حیضے سے متاثرہ بچی

سعودی عرب نے یمن میں ہیضے کی وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کو چھ کروڑ سات لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔

انسانی امداد کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل اسٹیفن او برائن نے ہفتہ کو بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران یمن میں ہیضے سے متاثر ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

یونیسف کے ڈائریکٹر انتھونی لیک اور عالمی ادارہ صحت کی سربراہ مارگریٹ چن نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم اس وقت دنیا میں ہیضے کی بدترین وبا کا سامنا کر رہے ہیں"، جس میں روزانہ پانچ ہزار افراد اس بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اوبرائن نے کہا کہ یمن میں انسانی صورتحال گزشتہ دو سالوں کے دوران ابتر ہوئی ہے جہاں 68 لاکھ افراد قحط سالی سے صرف ایک قدم کی دوری پر ہیں۔ ان کے بقول ہیضے کی حالیہ وبا سے 1300 افراد ہلاک ہوئے جنہیں بچایا جا سکتا تھا۔

ہیضے کی یہ تازہ وبا ایک ایسے وقت پھیلی ہے جب دو سال سے زائد عرصے سے سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی ممالک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اس لڑائی میں اب تک پانچ ہزار سے زائد عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

خانہ جنگی اور لڑائی کے باعث یہاں کے لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی کمیابی کا بھی سامنا ہے۔

او برائن کا کہنا تھا کہ ہیضے اور قحط سالی جیسے بحرانوں سے بچنے کا واحد راستہ لڑائی کا خاتمہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG