رسائی کے لنکس

کراچی: خواتین پر حملے، زخمی نوجوان بھی شاملِ تفتیش


نعمان کا حلیہ بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے ملزم سے ملتا ہے۔ لہذا، پولیس نے اسے حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے: سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پر اسرار طور پر خواتین پر پے در پے حملوں کا ملزم ابھی تک پکڑا نہیں جا سکا۔ تاہم، اتوار کی شام پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار کی جانب سے مبینہ طور پر تیز دھار آلے کے ذریعے زخمی کیے جانے والے شخص نعمان کو شامل تفتیش کر لیا ہے، جبکہ اس کی گرفتاری بھی ظاہر کی ہے۔

ضلع شرقی کراچی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیع اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ نعمان نامی ایک شخص نجی اسپتال پہنچا تھا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے تیز دھار آلے سے حملہ کیا اور فرار ہوگیا۔

ان کے بقول، ''نعمان کے بیانات میں تضاد ہے۔ وہ اپنا ہی بیان واپس لے لیتا ہے۔ اس نے پولیس کو لوہے کی راڈ سے زخمی ہونے کا بیان دیا جبکہ میڈیا کے روبرو اس کا کہنا تھا کہ اسے چھری سے زخم آئے ہیں''۔

پولیس اہل کار کے مطابق، ''اس کا یہ عمل شک کی بنیاد بنا، جبکہ نعمان کا حلیہ بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے ملزم سے ملتا ہے''۔ لہٰذا، پولیس نے اسے حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔

ادھر کچھ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد رپورٹ دی ہے کہ زخم کی نوعیت کو دیکھ کر شک ہوتا ہے کہ نوجوان نے خود کو زخمی کیا۔

حملوں میں 25ستمبر سے اب تک 13 خواتین زخمی ہو چکی ہیں۔ ان حملوں کی تفتیش کے سلسلے میں رینجرز نے بھی علاقے میں آپریشن کیا اور 15مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ لیکن، اصل ملزم کے بارے میں حتمی طور پر ابھی تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہیں۔ لیکن، ملزم پھر بھی پہچان میں نہیں آرہا، کیوں کہ وہ ہیلمٹ پہن کر موٹرسائیکل پر واردات کرتا ہے اور کسی تیز دھار آلے سے سڑکوں پر آتی جاتی خواتین کو زخمی کرکے فرار ہوجاتا ہے۔

ڈسٹرکٹ ایسٹ یا ضلع شرقی کے متعدد تھانوں کی پولیس کے لئے نامعلوم ملزم چھلاوا بنا ہوا ہے جو مختلف مقامات پر اچانک نمودار ہوتا اور سڑک پر اکیلی گزرنے والی خواتین کو زخمی کرکے فرار ہو جاتا ہے۔

ملزم کی گرفتاری کے لئے پولیس نے علاقے بھر میں مخبروں کا جال بچھا دیا ہے، سادہ لباس پولیس اہلکار بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ لیکن ملزم ہر بار پولیس کو جل دے جاتا ہے۔

سی ٹی ڈی، ایس آئی یو، اے سی ایل سی، اے وی سی سی، اسپیشل برانچ سمیت پولیس کے دیگر تمام ڈپارٹمنٹس ملزم کی تلاش میں ہیں۔

حکومت سندھ کی جانب سے اسے گرفتار کرانے یا اس سے متعلق اطلاع دینے والے کے لئے پہلے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا تھا جو بڑھ کر 5 لاکھ ہوگیا ہے، لیکن اس کے باوجود ملزم کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ناکامی کے خلاف گلستان جوہر کے مکینوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ہوچکا ہے جس میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

ناکامی کے سبب لوگوں میں غصہ اور اشتعال تو ہے ہی سات بجتے ہی علاقے میں سناٹا بھی چھا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کی تیاری کی غرض سے جب وی اواے کے نمائندے سے علاقے کا دورہ کیا تو بیشتر علاقے جہاں نصف شب کے بعد تک چہل قدمی رہا کرتی تھی وہ سنسان نظر آئے۔

لوگوں کی بڑی تعداد گھروں تک محدود نظر آئی۔ 26ستمبر سے گلستان جوہر بلاک 12، 15، راڈو بیکری، کامران چورنگی، پہلوان گوٹھ، گلشن اقبال، نیپا چورنگی، راشد منہاس روڈ، گلشن جمال اور باقی علاقوں میں سناٹے کا یہی عالم ہے۔ پورا علاقہ شام ڈھلتے ہی خاموشی اور سناٹے کی گہری چادر اووڑ لیتا ہے۔

وائس آف امریکہ کو علاقے کے کئی نوجوانوں جن میں جاوید، نجم، بلال اور فہد شامل ہیں، بتایا کہ محلہ کمیٹیوں اور یونینوں نے اپنے طور پر علاقے کی حفاظت کے لئے چوکیداری نظام شروع کیا ہوا ہے۔ ہر گلی، محلے، اپارٹمنٹ کے اطراف اور چوراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جارہی ہے۔

گلیوں میں چوکیداروں کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے اور، مجبوری میں یا کسی اور سبب رات کو گھروں سے باہر جانے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا جا رہا ہے، گاڑی کے شیشے بند اور دائیں بائیں سے گزرنے والے موٹرسائیکل سواروں سے فاصلہ رکھنے کی تاکید کی جارہی ہے۔

گلستان جوہر کے بعد 6 اکتوبر کی رات ساڑھے گیارہ بجے بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جس میں ایک لڑکی کو پی آئی بی کالونی میں نشانہ بنایا گیا۔

پی آئی بی کالونی کے ایس ایچ او صفدر مشوانی کے مطابق ’اب تک یہ اطلاعات تھیں کہ ملزم کوئی ایک ہی ہے جس کی عمر اندازاً25 سے 30 سال کے درمیان اور قد چھ فٹ کے قریب ہے اور جو صرف گلستان جوہر میں یہ وارداتیں کر رہا ہے۔ وہ جینز اور شرٹ پہنتا ہے۔ لیکن گلشن جمال میں زخمی ہونے والی لڑکی کے بیان کے مطابق جس ملزم نے اس پر حملہ کیا وہ شلوار قمیص پہنے ہوئے تھا اور اس کی جسامت بھی مختلف تھی جبکہ وہ ہیلمٹ بھی نہیں پہنے ہوئے تھا۔

مشوانی کے مطابق، بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالباً ملزم ایک ملزم بلکہ کئی ہیں۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی دیکھا دیکھی کچھ اور لوگ بھی ایسا کرکے خوف پھیلانے اور خود لطف اندوزی کے لئے ایسا کرنے لگے ہوں۔ تقلید میں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے اور کوئی بھی کرسکتا ہے۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG