رسائی کے لنکس

logo-print

حیدرآباد جیل میں پولیس آپریشن، 7 قیدی ہلاک


سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے مرکزی جیل میں احتجاج کرنے والے قیدیوں کے خلاف پولیس آپریشن میں سات قیدی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق سینٹرل جیل حیدرآباد کے قیدی جیل انتظامیہ کی جانب سے پانی اور بجلی کی دو روز سے بندش کے خلاف پیر کی شب سے احتجاج کر رہے تھے۔ قیدیوں نے پیر کی شب بیرکوں میں جانے سے بھی انکار کردیا تھا اور پوری رات اپنا احتجاج جاری رکھا۔
منگل کی صبح احتجاج کرنے والے قیدی بیرکوں کی چھت پر چڑھ گئے اور انہوں نے فرنیچر اور کپڑوں کو آگ لگادی۔جیل انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کے احتجاج پر قابو پانے کیلئے پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی جس نے احتجاج کرنے والے قیدیوں پر آنسو گیس کے شیل برسائے اور لاٹھی چارج کیا۔
اس موقع پر قیدیوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دوبدو لڑائی بھی ہوئی اور قیدیوں کے پتھراؤ سے مقامی تھانے کے ایس ایچ او سمیت کئی اہلکار زخمی ہوگئے۔
بعد ازاں جیل انتظامیہ نے ضلع حیدرآباد کے ملحقہ اضلاع سے بھی پولیس کی نفری کو مدد کیلئے طلب کرلیا۔ اس موقع پر پولیس نے فائرنگ بھی کی جس کی زد میں آکر سات قیدیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی کاروائی میں 30 قیدی زخمی بھی ہوئے۔
جیل انتظامیہ کی جانب سے ہلاک اور زخمی ہونے والے قیدیوں کے کوائف بھی تاحال جاری نہیں کیے گئے جس پر پولیس آپریشن کی اطلاع پر سینٹرل جیل کے باہر جمع ہونے والے قیدیوں کے رشتہ داروں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج بھی کیا۔
جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے احتجاج پر قابو پالیا گیا ہے جس کے بعد بیرکوں میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔
ڈی آئی جی جیل عاشق میمن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جیل میں پانی فراہم کرنے والی مشین گزشتہ روز خراب ہوگئی تھی جس کی وجہ سے قیدیوں کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی تھی۔ تاہم ان کے بقول مشین ٹھیک کردی گئی ہے اور قیدیوں کو پانی مہیا کیا جارہا ہے۔
عاشق میمن کا کہنا تھا کہ جیل میں لوڈشیڈنگ، بجلی فراہم کرنے والے ادارے کی جانب سے کی جارہی ہے جس کی ذمہ داری جیل انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی۔

XS
SM
MD
LG