رسائی کے لنکس

logo-print

کانگو سے سابق باغی رہنما کی حراست کا مطالبہ


کانگو سے سابق باغی رہنما کی حراست کا مطالبہ

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے کانگو کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سابق باغی لیڈر اور موجودہ جنرل کو فوری گرفتار کرے۔ جنرل Bosco Ntaganda جنگی جرائم کے الزاما ت میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کو مطلوب ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوری سے اب تک Ntaganda کانگو اور اس سے ملحقہ راوانڈا میں آٹھ افراد کے قتل، سات کی حراست اور ایک شخص کے اغواء میں ملوث رہے ہیں۔ تنظیم کے ایک سینیئر تحقیق کار Anneke Van Woudenberg نے کہا ہے کہ یہ جنرل مشرقی کانگو کے لوگوں کے لیے خطرہ ہیں اور وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق کانگو کی عدم برداست کی حکمت عملی کا تمسخر اُڑا رہے ہیں۔

جنرل Ntaganda پر ملک کی نیشنل کانگریس فار ڈیفنس آف دی پیپل ریبل گروپ یا (سی این ڈی پی) کے سابق سربراہ کے حامیوں کو دھمکانے کا الزام بھی ہے ۔ لیکن گذشتہ جنوری میں سابق باغی رہنماء کی سی این ڈی پی کی بطور سربراہ تعینات کے بعد اُنھیں کانگو فوج کا جنرل بھی بنا دیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ کانگو کی حکومت نےNtaganda کو حراست میں لینے سے انکار کردیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ سابق باغیوں کو منظم رکھنے کے لیے اُن کا کردار انتہائی اہم ہے اور اُنھیں فوج میں شامل کرنے کا فیصلہ قیام امن کے لیے کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG