رسائی کے لنکس

logo-print

سوات میں گوتم بدھ کے تاریخی مجسمے کی بحالی


ڈائنامائٹ سے اڑائے جانے کی وجہ سے بدھ کے چہرے کو نقصان پہنچا تھا جسے پہلے ورچوئلی طور پر لیبارٹری میں تھری ڈی کی مدد سے تیارکیا گیا پھرمجسمے پراسے دوبارہ تراشا گیا

پاکستان کے شہر سوات میں پہاڑ پر تراشے گئے گوتم بدھ کے ایک تاریخی مجسمے کو بحال کردیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں واقع ہمالیہ پہاڑی سلسلے کے دامن میں آباد شہر سوات کے علاقے جہاں آباد کی ایک پہاڑی میں مہاتما بدھ کا یہ مجسمہ ساتویں صدی میں تراشا گیا تھا جس میں گوتم بدھ کو مخصوص انداز میں بیٹھے دکھایا گیا ہے۔

اس مجسمے کو تحریکِ طالبان پاکستان نے 2007 میں تباہ کردیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اطالوی حکومت کی مدد سے گوتم بدھ کے مجسمے کی بحالی کا کام 2012ء میں شروع کیا گیا تھا۔ جدیدترین تھری ڈی لیبارٹری میں لیزر ٹیکنالوجی اور پرانی تصویروں کی مدد سے مجسمے کا نمونہ بنایا گیا۔

اس تاریخی ورثے کی طالبان کے ہاتھوں تباہی نے مقامی افراد کو شدید دکھ میں مبتلا کردیا تھا جو اب مجسمے کی بحالی پرخوش ہیں۔

سوات کے رہائشی اور بدھ ازم کے ماہر 79 سالہ پرویش خان نے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "انہوں نے ہماری تاریخ، ہمارے کلچر پر حملہ کیا تھا۔ ایسا لگا تھا جیسے انہوں نے میرے والد کو قتل کردیا ہو۔۔۔ بدھ یہ کا 20 فٹ بلند مجسمہ محبت، بھائی چارے اور امن کا پیغام دیتا ہے۔"

اطالوی حکومت نے سوات میں تاریخی ورثے کی بحالی اور اسے محفوظ کرنے کے لیے پانچ برسوں کے دوران 25 لاکھ یوروز کی سرمایہ کاری کی ہے۔

سوات میں اٹلی کا آرکیالوجی مشن 1955ء سے کام کر رہا ہے۔ مشن نے دیگر تاریخی مقامات کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ 2008ء میں تباہ ہونے والے مینگورہ کے آرکیالوجیکل میوزیم کو بھی بحال کیا ہے اور اس کی دیکھ بھال کے فرائض بھی انجام دیے۔

اطالوی مشن کو طالبان کے دور میں سوات سے نکلنا پڑا تھا لیکن سوات میں فوجی آپریشن کے بعد مشن کی علاقے میں سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوگئی تھیں۔

مذہبی ٹورازم
بدھا کے مجسمے کی بحالی کے کام کی نگرانی کرنے والی اطالوی ماہر آثارِ قدیمہ لوسا ماریا کے مطابق "بحالی کا کام آسان نہیں تھا۔ مرحلہ وارکام کا آغاز 2012ء میں کیا گیا تھا جب تباہ شدہ حصوں کو محفوظ کرنے کے لیے ان پر کوٹنگ کی گئی۔"

'اے ایف پی' سے گفتگو میں انہوں نے مزید بتایا، "ڈائنامائٹ سے اڑائے جانے کی وجہ سے بدھ کے چہرے کو نقصان پہنچا تھا جسے پہلے ورچوئلی طور پر لیبارٹری میں تھری ڈی کی مدد سے تیارکیا گیا۔ پھر مجسمے پر اسے دوبارہ تراشا گیا۔"

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحالی کا آخری مرحلہ 2016ء میں مکمل ہوا۔ مجسمے کو جان بوجھ کر بالکل پہلے جیسا نہیں بنایا گیا کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ اسے پہنچنے والے نقصان کے آثار بھی نظر آتے رہیں۔

مقامی حکام اور لوگوں کو امید ہے کہ مجسمے کی بحالی کے بعد علاقے کی سیاحتی رونقیں بھی لوٹ آئیں گی اور پہلے کی طرح پوری دنیا خصوصاً چین اور تھائی لینڈ کے سیاح بدھ کا مجسمہ دیکھنے سوات ضرور آئیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG