رسائی کے لنکس

نومسلم لڑکی کا عدالت میں والدین کے ساتھ جانے سے انکار


نوبیاہتا جوڑا اسلام آباد ہائی کورٹ سے باہر آرہا ہے

ڈاکٹر رمیش کمار نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ سندھ میں ہندو لڑکیاں کا مذہب زبردستی تبدیل کرایا جارہا ہے۔

مسلمان نوجوان سے شادی کرنے والی ہندو لڑکی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی۔

ماریہ نے والدین کے ساتھ ملاقات کے بعد بھی ان کے ساتھ جانے اور شوہر کو چھوڑنے سے انکار کیا تھا جس پر جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوبیاہتا جوڑے کو ساتھ رہنے کی اجازت دیدی۔

سکھر کی ہندو لڑکی انوشی نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام ماریہ رکھا تھا اور بلاول علی بھٹو نامی نوجوان سے شادی کی تھی۔

عدالت نے 18 اگست کو لڑکی کی احاطۂ عدالت میں والدین سے ملاقات کرانے کا کہا تھا۔

جمعے کو ہونے والی ملاقات سے قبل ماریہ نے عدالت میں بیان دیا کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور وہ اپنے والدین سے ملنا ہی نہیں چاہتی۔ اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدالت گارنٹی لیتی ہے کہ انہیں کو کچھ نہیں ہوگا۔

جمعے کو عدالت میں معاملے کی سماعت کے دوران مسلم لیگ(ن) کے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار بھی پیش ہوئے،۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈاکٹر رمیش سے کہا کہ اگر وہ ضمانت دیں کہ لڑکی کو کچھ نہیں ہوگا تو لڑکی کو ان کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ اس پر ماریہ نے ڈاکٹر رمیش کمار کے ساتھ جانے سے بھی انکار کردیا۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ سندھ میں ہندو لڑکیاں کا مذہب زبردستی تبدیل کرایا جارہا ہے۔

اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ان سے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کاروکاری کے حوالے سے کیا کررہے ہیں؟ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ انہیں قانون سازی نہیں کرنے دی جارہی جس پر جسٹس صدیقی نے کہا کہ کاروکاری کے معاملہ پر سب اکٹھے ہیں، سندھ میں اسمبلی نے نیب کے قانون کو اٹھا کرپھینک دیا۔

بعدازاں ماریہ کی اس کے والدین سے کمرۂ عدالت میں ملاقات کرائی گئی جس کے بعد عدالت کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ماریہ نے ایک بار پھر والدین کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔

ماریہ کے والد آنند مل نے کہا کہ انہیں ایک ہفتے کا وقت دیا جائے تاکہ وہ ماریہ کو قائل کرسکیں ۔ لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مزید وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سندھ کی کسی مجاز عدالت سے رابطہ کرلیں۔

پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ میں ہندو لڑکیوں کو مسلمان کرکے شادی کرنے کے الزامات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں ۔ پاکستان میں موجودہ ہند کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے کو روکنے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی جارہی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG