رسائی کے لنکس

اسلام آباد ہائی کورٹ: 'سیاسی جھگڑوں کو عدالت نہیں پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے'


اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کو کہا ہے کہ وہ عدالت کو مطمئن کریں کہ وہ اسمبلی میں جانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کو پارلیمنٹ میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے، سیاسی جھگڑوں کو عدالت میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے درخواست پر حکم جاری نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کے 10مستعفی ارکان کی درخواست پر جمعرات کو سماعت کی تو اس موقع پر تحریکِ انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کے موٴکل کے استعفے منظور کرنے میں آئینی ذمے داری پوری نہیں کی۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ یہ ارکان پارٹی کی پالیسی کے خلاف ہیں، کیا پارٹی نے ان کے خلاف ایکشن لیا؟ اس پٹیشن کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ پارٹی پالیسی ہے؟ پہلے یہ درخواست گزار اپنی نیک نیتی ثابت کریں۔ پارلیمنٹ کے معاملات میں عدالت مداخلت نہیں کرتی۔ عدالت نے شکور شاد کیس میں بھی صرف نظر ثانی کا کہا ہے۔

عدالتی استفسار پر وکیل علی ظفر نے بتایا کہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں، اس کے خلاف نہیں جس پر عدالت نے سوال کیا کہ تو پھر یہ کیوں وہاں جانا چاہتے ہیں؟ گزشتہ پٹیشن اس سے مختلف تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مطمئن کریں کہ یہ 10 ارکان پارلیمنٹ میں جانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ کیس ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ یہ سیاسی تنازعات ہیں، سیاسی جھگڑے ختم کرنے کی جگہ پارلیمنٹ ہے، ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنا چاہیے۔ شکور شاد کی حد تک جب اس عدالت نے فیصلہ دیا تو ان کے خلاف پارٹی نے شوکاز جاری کیا۔

سماعت کے دوران علی ظفر نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے ارکان نے اس شرط پر استعفے دیے تھے کہ تمام 123 ارکان مستعفی ہوں گے لیکن اسپیکر نے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور کیے۔ اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پارٹی نے اپنے ارکان کو استعفے دینے پر مجبور کیا تھا؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ اب پارٹی پالیسی کے خلاف جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نےمؤقف اختیار کیا کہ ہمارا سیاسی مقصد تمام 123 نشستیں خالی کرنا تھا۔ اگر مقصد پورا نہیں ہوا تو ہم سمجھتے ہیں اب تک تمام ارکان قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب استعفیٰ دے دیا تو پھر منظوری اسپیکر کا ہی اختیار ہے، استعفے دینے والا اُس کے بعد اپنی شرائط نہیں لگا سکتا۔

واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 28 جولائی کو تحریکِ انصاف کے 11 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے بعدازاں الیکشن کمیشن نے خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پی ٹی آئی ارکان کی آٹھ خالی نشستوں پر 16 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہونا ہیں۔

تاہم پی ٹی آئی کے مستعفی 10 ارکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے۔

جن ارکان نے عدالت سے استدعا کی ہے ان میں علی محمد خان ، فرخ حبیب، ڈاکٹر شاندانہ گلزار، فضل محمد خان، فخر زمان خان ، شوکت علی ، ڈاکٹر شیریں مزاری، اعجاز شاہ ، محمد اکرم اور جمیل احمد شامل ہیں۔

'جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انہیں اسمبلی میں ہونا چاہیے'

جمعرات کو سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جن ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے انہیں تو پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے اور یہ ان کا فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کریں جس پر وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ واپس جانا سیکنڈری ایشو ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے رویے میں تضاد ہے۔ کیا مستعفی 10 ارکان آج بھی پارلیمنٹ واپس نہ جانے کی پالیسی کے ساتھ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ کی درخواست ہم نہیں سنیں گے۔

'عمران خان چند ہفتوں میں دوبارہ وزیرِ اعظم بنیں گے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:53 0:00

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں اس وقت ان سوالات کے جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کیوں کہ ان 10 ارکان کو ڈی نوٹی فائی کیا جا چکا ہے۔ اگر ایک بار رکنیت بحال ہو تو پھر واپسی کے سوال پر جواب دے سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس سے متعلق سوچ لیں اور بیان حلفی جمع کرائیں۔ جب تک پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفے منظور نہیں ہوتے ان کو پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔

اسدوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مذاق نہ بنائیں، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں نے منتخب کیا ہے ان کی نمائندگی کریں۔ یہ چیز باتوں سے نہیں آپ نے اپنے کنڈکٹ سے ثابت کرنی ہے۔ جھگڑے ختم کرنے کی جگہ صرف پارلیمنٹ ہے۔

اسپیکر کو ہدایت نہیں دیں گے: چیف جسٹس

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ کی صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے درخواست پر آرڈر نہیں کرسکتے۔ بیان حلفی دیں کہ واپس پارلیمنٹ میں جائیں گے تب ہی سنیں گے۔

اس پر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی کی پالیسی کے خلاف تو پارلیمنٹ نہیں جائیں گے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بس پھر معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے، یہ عدالت سیاسی معاملات میں کبھی بھی مداخلت نہیں کرے گی۔

عدالتی ریمارکس پر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ استعفے منظوری کا آرڈر معطل کر دیں تو جا کر اسپیکر سے بات کر سکتے ہیں، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت سیاسی ڈائیلاگ کے لیے تو آپ کو سہولت فراہم نہیں کرے گی۔اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ کو نہ ہی اسپیکر کو ہدایت دی ہے۔ 75 برسوں سے ہم میں سے کسی نے بھی پارلیمنٹ کا احترام نہیں کیا۔

عدالت میں علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر نے ڈکٹیشن لے کر اپنے مینڈیٹ کے خلاف 11 ارکان کے استعفی منظور کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کیس ہے کہ استعفے منظوری کا فیصلہ اسپیکر نے نہیں کیا ہے بلکہ غیر متعلقہ لوگوں نے کیا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان چیزوں میں نہ جائیں، ایسی بات نہ کریں کہ اسپیکر نے کسی کے کہنے پر استعفوں کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے یا ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ، کیا ان کا اپنا فیصلہ تھا؟ ماضی میں نہ جائیں، سب سے زیادہ ظلم اور زیادتی عام پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، اگر کوئی اسے تسلیم نہیں کرتا تو پھر ہم پٹیشن کیوں سنیں؟

انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں ماضی میں سیاسی عدم استحکام کا حصہ رہی ہیں لیکم اس میں نہیں جائیں گے، یہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی کا احترام کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔

XS
SM
MD
LG