رسائی کے لنکس

logo-print

مولانا عبدالعزیز کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب


جنوری میں عبدالعزیز کے خلاف آبپارہ تھانے میں ایک درخواست جمع کرائی گئی تھی جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش سے وفاداری کی حمایت کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے داعش کو مبینہ طور پر پاکستان میں آنے کی دعوت دینے پر لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ایک درخواست پر پیر کو اٹارنی جنرل سے جواب داخل کرانے کو کہا ہے۔

انسانی حقوق ایک سرگرم کارکن جبران ناصر کی درخواست کی سماعت کے موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس درخواست پر وزارت داخلہ کی طرف سے جواب داخل کرائیں۔

جنوری میں عبدالعزیز کے خلاف آبپارہ تھانے میں ایک درخواست جمع کرائی گئی تھی جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش سے وفاداری کی حمایت کی ہے۔

ایک وڈیو پیغام میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان کے زیر انتظام چلنے والے مدرسے جامعہ حفصہ کی طالبات نے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو اسامہ بن لادن اور لال مسجد آپریشن میں ہونے والی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔

سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاست کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے جس کی مولانا عزیز نے حمایت کی تھی۔

پولیس کو اس کا تفصیلی ثبوت پیش کیے جانے کے باوجود اب تک عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا جس کے بعد جبران ناصر نے عدالت سے رجوع کیا۔

اس مقدمے کی اگلی سماعت کی تاریخ 18 مئی مقرر کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG