رسائی کے لنکس

logo-print

ظفر الحق کمیٹی رپورٹ پیش کرنے کے لیے حکومت کو آخری مہلت


اسلام آباد دھرنے کے شرکا کئی ہفتوں تک دارالحکومت کے ایک مرکزی داخلی راستے پر بیٹھے رہے تھے (فائل فوٹو)

پیر کو فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت جسٹس صدیقی نے ختمِ نبوت کے قانون میں ترمیم سے متعلق راجہ ظفر الحق کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں حکومت کو راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے آخری مہلت دے دی ہے۔

کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے واضح کیا ہے کہ 20 فروری کو رپورٹ پیش نہ ہوئی تو وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ اور وزیرِ مذہبی امور کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

پیر کو فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران جسٹس صدیقی نے ختمِ نبوت کے قانون میں ترمیم سے متعلق راجہ ظفر الحق کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے ساتھ چُھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلیں۔ آپ کو احساس نہیں ختمِ نبوت کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ یہ نہ ہو کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کو طلب کرنا پڑے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ ابھی فائنل نہیں ہوئی۔ نازک معاملہ ہے۔ رپورٹ جمع کرانے کے لیے 15 دن کا وقت دیا جائے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ آپ کے لیے نازک معاملہ نہیں کہ اگر حکومت ہی عدالتی احکامات نہیں مانے گی تو دوسرے کیا کریں گے؟ وزرا 20 منٹ کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہو جاتے ہیں۔ اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہو کر احسان کرتے ہیں۔

عدالت نے رپورٹ جمع کرانے کے لیے حکومت کو آخری مہلت دیتے ہوئے سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع نہ ہوئی تو وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ، وزیرِ قانون اور وزیرِ مذہبی امور کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری ہوں گے۔

اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر ایک مذہبی جماعت 'تحریکِ لبی' نے ختمِ نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف گزشتہ سال نومبر میں دھرنا دیا تھا جو کئی ہفتے جاری رہا تھا۔

حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا جس میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

آپریشن کے خلاف اور مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے جس پر عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں 27 نومبر کو حکومت نے وزیرِ قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے جن میں دورانِ آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

دھرنا مظاہرین اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر پاکستان کی فوج کے ایک حاضر سروس اعلیٰ افسر کے دستخط بھی بطور ضامن موجود تھے جس پر خاصی لے دے ہوئی تھی جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پر برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔

عدالت نے معاہدے میں آرمی چیف کا نام استعمال ہونے پر بھی وزارتِ دفاع سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG