رسائی کے لنکس

logo-print

'سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل نو ستمبر کے بعد سنی جائے گی'


فائل فوٹو

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گرمیوں کی چھٹیاں ہیں جس کی وجہ سے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیل نو ستمبر کے بعد سنی جائے گئی۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں مجرمان کی جانب سے دائر اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیل پر سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ہو گی جبکہ سزا معطل کرنے اور ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا اس مہینے کے آخر میں سنی جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے تحریر کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گرمیوں کی چھٹیاں ہیں جس کی وجہ سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیل نو ستمبر کے بعد سنی جائے گئی۔

تحریری حکم نامے کے مطابق اپیلوں پر حتمی فیصلے تک سزا معطل کرنے اور میاں صاحب کے خلاف دیگر دو ریفرنس دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی درخواست اسی مہینے کے آخری ہفتے میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے۔

حکم نامے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی معاونت کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وکلائے صفائی کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات زیرِ بحث لانے کی ضرورت ہے۔

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے 16 جولائی کو رجوع کیا تھا۔ مجرمان کی جانب سے فیصلہ کالعدم قرار دینے، سزا معطل کرنے اور نواز شریف کے خلاف دیگر ریفرنسز دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

اپیلوں پر پہلی سماعت 17 جولائی کو ہوئی تھی جس میں بینچ نے ملزمان کی اپیلوں پر نیب سے جواب طلب کرلیا تھا۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم اور داماد کیپٹن صفدر اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG