رسائی کے لنکس

سرکاری بھرتیوں پر پابندی کے خلاف درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل


فائل فوٹو

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ درخواستوں پر فیصلے تک حکمِ امتناع نہیں دیں گے اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعین عدالت کرے گی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے خلاف دائر تمام درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ منقتل کرتے ہوئے عدالت کو ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ درخواستوں پر فیصلے تک حکمِ امتناع نہیں دیں گے اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعین عدالت کرے گی۔

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر پابندی کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پری پول دھاندلی روکنے کے لیے عام انتخابات سے قبل بھرتیوں پر پابندی لگائی۔ البتہ وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کے تحت بھرتیوں پر پابندی نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گریڈ ایک سے تمام تقرریوں پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟ جس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے آگاہ کیا کہ مختلف علاقوں سے مسلسل تحریری شکایات مل رہی تھیں۔ الزام تھا کہ حکومت اپنے حلقوں میں دھڑا دھڑ بھرتیاں کررہی ہے۔ نوکریاں دینے کا مقصد پری پول دھاندلی ہے۔ اس تاثر کو روکنے کے لیے آئین کے تحت حاصل اختیار کے مطابق پابندی لگائی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات واضح کرے کہ کس قسم کی بھرتیوں پر پابندی لگائی ہے۔ الیکشن کمیشن کے تعین کرنے سے آسانی ہو جائے گی۔ عدالت الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعین کرے گی۔

دورانِ سماعت صوبائی ایڈوکیٹس جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد پابندی کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت بدھ کو پابندی کے خلاف درخواست دائر کرے گی۔ سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ان کا صوبہ بھی پابندی سے متاثر ہوا ہے لیکن تاحال صوبائی حکومت نے پابندی چیلنج نہیں کی ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری شفاف الیکشن کرانا ہے۔ صوبوں نے بھی پابندی کو چیلنج کیا ہے۔ بعض تعیناتیوں کا حکم عدالت نے دیا ہے۔ حکومت کہتی ہے پابندی الیکشن کمیشن نے لگائی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پابندی کے خلاف تمام درخواستیں یکجا ہو جائیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی کے خلاف تمام درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرتے ہوئے ان کی سماعت کے لیے دو رکنی بینچ بنانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کو دو رکنی بینچ کا سربراہ مقرر کردیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں بینچ کو کیس کی سماعت روزانہ کہ بنیاد پر کرنے اور ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ جانب سے جاری حکم کے مطابق پنجاب حکومت کی پابندی کے خلاف رٹ اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کی جائے جب کہ الیکشن کمیشن کا بھرتیوں پر پابندی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے تک برقرار رہے گا۔

عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق جو صوبہ بھی پابندی چیلنج کرنا چاہے وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے براہِ راست فیصلہ دیا تو وہ حتمی فیصلہ ہوگا، ہائی کورٹ فیصلہ کرے گی تو ہمارے پاس ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کا اختیار ہوگا۔

رواں سال ہونے والے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 11 اپریل کو اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے سرکاری بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق یکم اپریل سے ہوگا تاہم پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونے والی سرکاری بھرتیاں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

رواں ماہ کے آغاز میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عوامی پیسے سے مکمل ہونے والے منصوبوں پر عوامی نمائندوں کے ناموں پر مشتمل تشہیری تختیاں لگانے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق کسی بھی اسکول، ہسپتال، سڑک، ٹیوب ویل یا کسی بھی ترقیاتی اسکیم پر سیاست دانوں کے نام کی تختیاں نہیں لگیں گی۔

الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ یکم مارچ 2018ء سے اب تک جن بھی اسکیموں پر سیاست دانوں کے ناموں کی تختیاں لگ چکی ہیں وہ فوری طور پر ہٹائی جائیں اور مستقبل میں بھی نہ لگنے دی جائیں۔

کئی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG