رسائی کے لنکس

logo-print

آئی ایم ایف کا قرضہ بڑے پیمانے پر اصلاحات کا ایجنڈا لایا ہے:ماہرین


چھ ارب ستر کروڑ ڈالر قرضے کی فراہمی کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کو پرانے قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ 'آئی ایم ایف' نے پاکستان کی مالیاتی مشکلات پر قابو پانے اور اقتصادیات کو بہتر بنانے کے لیے چھ ارب ستر کروڑ ڈالر قرض دینے کی منظوری دی ہے۔

اس قرضے کی منظوری واشنگٹن میں فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے دی اور 54 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط جلد جاری کی جائے گی جب کہ بقیہ رقم آئندہ تین سالوں میں فراہم کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کی طرف قرضہ فراہم کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملکی خزانے میں زرمبادلہ کم ہونے کی وجہ سے نواز شریف حکومت کو قرضوں کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10.4 ارب ڈالر ہیں جبکہ حکومت نے رواں مالی سال میں آئی ایم ایف کے پرانے قرضے کی کچھ اقساط بھی ادا کرنی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کا نیا قرضہ عارضی ریلیف ہے اور اب وزیراعظم نواز شریف کی ٹیم کو بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا ہوں گی جو کہ ملک کے معاشی استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کا جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کے اخراجات اور دیگر بجٹ سے متعلق امور میں کسی حد تک نظم و ضبط آجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور ترقی میں توازن قائم کرنا حکومت کے لیے سب سے بڑا چلینج ہوگا۔

’’ہمارا تونائی کا شعبہ بے باک ہے اس میں اصلاحات اور اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں پاور مارکیٹ بنانا۔ مسابقت لانا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات بھی بے قابو ہیں۔ جن پر خرچ کیے جاتے ہیں وہاں سے آؤٹ پٹ نہیں ملتی۔ بڑے شہروں میں کوئی سرگرمیاں نہیں ہورہیں۔‘‘

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق حکومت رواں مالی سال کے پہلے 45 دنوں میں مختلف اخراجات کے لیے اسٹیٹ بنک سے تقریباً 600 ارب روپے لے چکی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی ادارے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں مراعات ختم کرنے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ملک کے خزانے پر بوجھ کم اور مالی وسائل میں اضافہ ہوگا۔

تاہم سینٹ کی کمیٹی برائے خزانہ کی سربراہ نسرین جلیل کہتی ہیں کہ’’مہنگائی کی شرح آٹھ اعشاریہ چھ فیصد ہے جو پہلے ہی اتنی زیادہ ہے۔ پھر روپے کی قدر روزانہ گر رہی ہے تو مراعات اگر ختم کردی گئیں تو مہنگائی تو اور زیادہ ہوجائے گی۔ اس کی جگہ زرعی ٹیکس لگایا جائے اور اسٹیٹ انٹرپرائیزز پی آئی اے، اسٹیل ملز میں جو پیسے کا ضیاع ہے اسے روکیں تو بچت ممکن ہے۔‘‘

پاکستان نے اب تک آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت 12 مرتبہ قرضہ حاصل کیا مگر صرف سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت میں معاہدے کے تحت مکمل معاشی اصلاحات کی گئیں۔ اس بارے میں سلمان شاہ کہتے ہیں۔

’’حکومت جب معاہدے پر دستخط کررہی ہوتی ہیں تو جلدی ہوتی ہے کہ پیسہ آئے مگر بعد میں پھر وہ وعدے پورے نہیں ہوتے۔ ظاہر ہے کہ سیاسی حکومت ہے تو اس کے لیے زیادہ مشکل کام کرنے اتنے آسان نا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کو بھی وہی پروگرام دینا چاہیے جو مکمل ہوسکے۔‘‘

وزارت خزانہ کے عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف سے اس نئے قرضے کی زیادہ رقم پرانے قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG