رسائی کے لنکس

logo-print

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لگارڈ مستعفی ہو گئیں


آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لگارڈ۔ فائل فوٹو

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لگارڈ مستعفی ہو گئی ہیں۔

منگل کے روز اس بات کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کے بعد یورپین سنٹرل بینک کی سربراہ کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

لگارڈ کے بیان کے مطابق، ان کا استعفیٰ 12 ستمبر سے نافذالعمل ہو گا۔ یوں، آئی ایم ایف کے پاس ان کے جانشین کے انتخاب کیلئے مناسب وقت دستیاب ہو گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا جانشین بھی کسی یورپی ملک سے ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا مستعفی ہونا آئی ایم ایف کے مفاد میں ہے۔

لگارڈ کو 2 جولائی کو یورپین سنٹرل بینک کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم، خبر رساں ادارے، رائیٹرز کے مطابق، آئی ایم ایف کے سربراہ کی حیثیت سے مستعفی ہونے کے فیصلے میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ یورپین پارلیمان کی طرف سے ان کی اور یورپین یونین کے دیگر اعلیٰ عہدوں کی تقرریوں کی توثیق ہونا باقی ہے۔

ان کے جانشین کیلئے جو نام گردش کر رہے ہیں ان میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر مارک کارنی، بینک آف فنلینڈ کے گورنر، اولی ریہن اور یورپین سنٹرل بینک کے ایگزیکٹو بورڈ ممبر، بینوئٹ کوئر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ، آئی ایم ایف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کی چیف ایگزیکٹو افسر، بلغاریہ نژاد کرسٹالینا جارجیوا بھی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہو سکتی ہیں۔

لگارڈ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے حالیہ 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تمام مراحل کی نگرانی کرتی رہی ہیں اور وزیر اعظم عمران خان سے بھی اس سلسلے میں متعدد بار مل چکی ہیں۔

کرسٹین لگارڈ فرانس کی سابق وزیر خزانہ ہیں اور وہ آئی ایم ایف کی پہلی خاتون سربراہ ہیں۔ وہ تجارت اور عالمی ترقی کے ایک ایسے نظام کی حامی کے طور پر جانی جاتی ہیں جن سے غریب اور متوسط طبقے کو فائدہ پہنچے اور خواتین کو با اختیار بنایا جا سکے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیے گئے تھے۔

روایتی طور پر آئی ایم ایف کا سربراہ یورپی، جبکہ ورلڈ بینک کا سربراہ ہمیشہ امریکی شہری ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG