رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی معیشت کی شرحِ نمو سست رہے گی، آئی ایم ایف


'آئی ایم ایف' نے پیش گوئی کی تھی کہ سالِ رواں کے دوران عالمی معیشت کی شرحِ نمو 6ء3 جب کہ 2015ء میں 9ء3 رہنے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لگارڈ نے کہا ہے کہ رواں سال کے دوران عالمی معیشت کی شرحِ نمو ابتدائی اندازے سے کم رہنے کا امکان ہے۔

پیر کو فرانس میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے کی سربراہ کا کہنا تھا کہ 'آئی ایم ایف' کی معیشت دوست پالیسی کا عالمی منڈیوں پر زیادہ اثر نہیں پڑا ہے جس کےباعث فنڈ کو بین الاقوامی معیشت کی شرحِ نمو سے متعلق اپنی پیش گوئی پر نظرِ ثانی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

کرسٹین لگارڈ نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ واجب الادا قرضوں کی بروقت ادائیگی کرکے اپنی معیشتوں کو دیوالیہ ہونے سے بچائیں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں تاکہ بین الاقوامی معیشت کو سہارا مل سکے۔

رواں سال اپریل میں 'آئی ایم ایف' نے پیش گوئی کی تھی کہ سالِ رواں کے دوران عالمی معیشت کی شرحِ نمو 6ء3 جب کہ 2015ء میں 9ء3 رہنے کا امکان ہے۔

لیکن پیر کو اپنے خطاب میں عالمی ادارے کی سربراہ نے عندیہ دیا کہ معاشی اہداف حاصل نہ ہونے کے باعث اس پیش گوئی پر نظرِ ثانی کی جائے گی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں مایوس کن کارکردگی کے بعد دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت امریکہ کی معیشت میں بہتری آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یوروزون' بتدریج مالی بحران کے اثرات سے نکل رہا ہے اور چین کی معاشی ترقی کی رفتار میں بھی بہت زیادہ کمی آنے کا کوئی امکان نہیں ہے جو بین الاقوامی معیشت کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

XS
SM
MD
LG