رسائی کے لنکس

logo-print

روپے کی قدر میں مزید کمی، ڈالر 150 کا ہو گیا


فائل فوٹو

پاکستان میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔ جمعے کو انٹر بینک میں ڈالر 149 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 150 روپے تک پہنچ گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے روپے کی قدر میں کمی کو مارکیٹ کی موجودہ صورت حال کا مظہر قرار دیا ہے۔

ماہرین معاشیات کے مطابق، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی بڑی وجہ عالمی مالیاتی ادارے (ٓآئی ایم ایف) کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والا معاہدہ ہے۔

روپے کی بے قدری، صورت حال غیر یقینی

ماہرین معاشیات کے مطابق، روپے کی قدر میں مسلسل کمی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے باعث ہو رہی ہے۔

اقتصادی امور کے ایک ماہر عابد سلہری کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئی ایم ایف سے طے معاہدے کے تحت انٹر بینک مارکیٹ سے خود ڈالر خرید رہا ہے، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے، جس سے روپے کی قدر گھٹ رہی ہے۔

پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ طلب اور رسد ہے۔ ان کے بقول، ’’حالیہ دنوں میں ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ڈالر کی طلب برقرار رہے گی، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھتی رہے گی۔ لیکن، جب طلب کم ہو گی تو ڈالر کی قدر بھی کم ہو جائے گی۔ رواں سال فروری میں انٹر بینک مارکیٹ میں ایک ڈالر 144 روپے کا ہو گیا تھا۔ لیکن، بعد ازاں یہ دوبارہ 137 پر آ گیا تھا۔

ملک بوستان کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق، ڈالر کی قیمت کا تعین طلب اور رسد کی بنیاد پر ہونا چاہے۔ تاہم، ان کے بقول، بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب بڑھ گئی ہے، اس لیے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی بڑھ سکتی ہے۔

'آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات سامنے لائی جائیں'

اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کرنی چاہیے، تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ یہ معاہدہ کن شرائط پر ہوا ہے۔

ملک بوستان کے مطابق، پاکستان کو درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں مسلسل کمی کے باعث ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا ہے، جب کہ غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے اکثر کاروباری افراد نے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر دیا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کرنسی کی بیرون ملک منتقلی روک دے تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گا، جب کہ روپے کی قدر بھی بڑھ جائے گی۔

ایک معروف کاروباری شخصیت زبیر موتی والا بھی آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو روپے کی قدر میں کمی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوری طور پر اس معاہدے کی تفصیلات عام ہونی چاہیے۔

روپے کی گراوٹ اور مہنگائی

معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے نتیجے میں ملک کے اندر مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ملک بوستان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے جب کہ درآمدی سامان کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ان کے بقول، حکومت کو آئی ایم ایف معاہدے کے تحت گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرنا پڑے گا۔

زرمبادلہ میں اضافہ کیسے ممکن ہے

ماہرین کے مطابق، حکومت کی لائی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا مقصد محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم، حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس اسکیم کے تحت کتنی رقم جمع ہونے کی توقع ہے۔

تجزیہ کار عابد سلہری کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لائی جا چکی ہے۔ لیکن، اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ان کے بقول، معاشی مسائل کے حل کے لیے برآمدآت میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے چین کے ساتھ کرنسی کے تبادلے کا معاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ ’یوان بانڈز‘ جاری کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG