رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سپریم کورٹ نے ریاست ایری زونا کے امیگریشن قانون کی متعدد شقیں منسوخ کردیں


امریکہ کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز ریاست ایری زونا کے امیگریشن سے متعلق سخت قانون کی کئی دفعات مسترد کردیں، جنہیں پولیس اہل کاروں کے لیے کسی بھی غیر قانونی تارک وطن کی گرفتاری کو آسان بنانے کی خاطر تشکیل دیا گیاتھا۔

لیکن اعلیٰ عدلیہ نے قانون کی کئی متنا زع دفعات میں سے ایک کو برقرار رکھا جس میں پولیس کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی مشکوک شخص کو کسی بھی بنا پر روکنے کے بعد ملک میں اس کی امیگریشن حیثیت کی جانچ پڑتال کرسکتی ہے۔

ججوں نے ایری زونا کے قانون کی تین دوسری شقیں مسترد کردیں ، جن میں سے ایک کے تحت ورک پرمٹ کے بغیر کام ڈھونڈنا جرم قرار دیا گیاتھا اور تارکین وطن کے لیے رجسٹریشن کاغذات اپنے پاس نہ رکھنا بھی جرم بنا دیا گیاتھا اور یہ کہ پولیس کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی ایسے تارک وطن کو گرفتار کرسکتی ہے جس کے متعلق اس کا خیال ہو کہ اسے ملک بدر کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایری زونا کے قانون کی یہ تین شقیں پانچ ججوں کی اکثریت سے مسترد کیں۔ جب کہ اختلاف کرنے والے ججوں کا کہناتھا کہ پورا قانون ہی منسوخ کیا جانا چاہیے۔

ریاست ایری زونا نے 2010ء میں غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق یہ قانون منظور کیا تھا ۔ ریاستی راہنماؤں کا کہناہے کہ یہ قانون سازی ریاست میں زیادہ تر جنوبی اور وسطی امریکہ سےآنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی روکنے کے لیے ضروری تھی۔ریاستی عہدے داروں کا یہ بھی کہناتھا کہ مرکزی حکومت امیگریشن سے متعلق وفاقی قوانین پر مکمل عمل درآمد میں ناکام ہوچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG