رسائی کے لنکس

logo-print

عمران فاروق قتل کیس کا ٹرائل مکمل، فیصلہ 18 جون کو سنایا جائے گا


(فائل فوٹو)

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن میں قتل ہونے والے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا پانچ سال بعد ٹرائل مکمل کرلیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو 18 جون کو سنایا جائے گا۔

دورانِ سماعت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز احمد نے حتمی دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان بانی متحدہ الطاف حسین اور محمد انور کے خلاف عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ملزمان جرم کے مرتکب ہوئے اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں عدالت سے استدعا کی کہ بانی متحدہ کی پاکستان میں منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ یہ حکم پہلے ہی دے چکے ہیں اب آپ ضبط کرنے کی کارروائی شروع کریں۔

عمران فاروق قتل کیس: کب کیا ہوا؟

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایجور کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا تھا۔

برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں قتل کی تفتیش کے دوران ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے تھے۔ چھاپے کے دوران وہاں سے پانچ لاکھ سے زائد برطانوی پاؤنڈز کی رقم ملنے پر ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔

بعدازاں برطانوی پولیس نے تحقیقات کے حوالے سے ویب سائٹ پر کچھ تفصیلات جاری کی تھیں جس کے مطابق مشتبہ ملزم 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہا تھا جب کہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچا تھا۔

دونوں افراد شمالی لندن کے علاقے اسٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے۔

جون 2015 میں پاکستانی حکام دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کی چمن سے گرفتاری ظاہر کی گئی تھی جب کہ ایک اور ملزم معظم علی کو کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کے قریب ایک گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تینوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ ایف آئی اے کی تحویل میں تھے۔ ان ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

یکم دسمبر 2015 کو اس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عمران فاروق قتل کیس کا مقدمہ پاکستان میں درج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پانچ دسمبر 2015 کو حکومتِ پاکستان نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا جو ایف آئی اے کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر انعام غنی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

مقدمے میں ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور اور افتخار حسین کے علاوہ معظم علی خان، خالد شمیم، کاشف خان کامران اور سید محسن علی کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

مقدمے میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش اور قاتلوں کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے جب کہ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات 34، 109، 120بی،302 اور 7 شامل کی گئی تھیں۔

چھ دسمبر 2015 کو تین مبینہ ملزمان معظم علی، سید محسن اور خالد شمیم کو ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

آٹھ جنوری 2016 کو اس مقدمے میں ملوث ملزمان میں سے دو محسن علی اور خالد شمیم نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ لیکن قتل کے مبینہ مرکزی ملزم معظم علی نے صحتِ جرم سے انکار کردیا تھا۔

نو جنوری 2016 کو عمران فاروق قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی تھی جب گرفتار ملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں کئی اہم انکشافات کیے تھے۔

گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا تھا کہ عمران فاروق کا قتل ایم کیو ایم کے سینئر رہنما محمد انور کی ہدایت پر کیا گیا کیوں کہ محمد انور کا خیال تھا کہ عمران فاروق الگ گروپ بنانا چاہتے تھے۔

دیگر ملزمان کے مطابق ملزم کاشف نے بتایا تھا کہ پارٹی قیادت سے حکم ملا تھا کہ عمران فاروق کو قتل کردو۔ انکشاف کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ ملزم معظم کو فون کرکے کوڈ ورڈ ’ماموں کی صبح ہوگئی‘ میں اطلاع دی۔ جس کا مطلب تھا عمران فاروق کو قتل کردیا گیا۔

خیال رہے کہ ملزم کاشف کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کا انتقال ہوچکا ہے جب کہ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ملزم اب تک گرفتار نہیں ہو سکا۔

اکیس اپریل 2016 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تھا۔

29 اپریل 2016 کو عمران فاروق قتل کیس کے اہم ملزم خالد شمیم کے ایک ویڈیو بیان نے سرکاری اور سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کردی تھی۔

جیل میں قید خالد شمیم نے ویڈیو میں الزام لگایا تھا کہ ایم کیو ایم قائد الطاف حسین ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث تھے۔

عمران فاروق کے قتل پر ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے اسے بڑا نقصان قرار دیا تھا۔
عمران فاروق کے قتل پر ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے اسے بڑا نقصان قرار دیا تھا۔

چار مئی 2016 کو وفاقی دارالحکومت کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں عمران فاروق قتل کیس کا عبوری چالان ساتویں بار پیش کیا گیا۔ عدالت نے 12 مئی سے اڈیالہ جیل میں باقاعدہ ٹرائل کا فیصلہ کیا۔

اسی سال 28 مئی کو پاکستان آنے والی اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم واپس برطانیہ روانہ ہو گئی۔ ٹیم نے عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے پاکستان میں گرفتار ملزمان کے انٹرویو کیے تھے جبکہ پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے سامنے کیے گئے اعترافی بیانات کا بھی جائزہ لیا تھا۔

دس نومبر 2016 کو ملزم خالد شمیم نے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کو سالگرہ پر تحفہ دینے کے لیے 16 ستمبر کو عمران فاروق کو قتل کرنے کی تاریخ مقرر کی تھی۔

علاوہ ازیں 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کو اکتوبر کے مہینے تک ٹرائل مکمل کرنے کا کہا حکم دیا تھا۔ تاہم استغاثہ کی جانب سے عدالت سے متعدد مرتبہ ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی گئی جس کی وجہ برطانوی حکومت کا شواہد فراہم کرنے میں رکاوٹ بننا بتایا گیا تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت کو خدشہ ہے کہ ملزمان کو سزائے موت سنا دی جائے گی۔

تاہم گزشتہ سال برطانوی حکومت نے 23 برطانوی گواہان، تین تفتیشی افسران اور دیگر ماہرین و عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں لندن پولیس اب تک 7697 سے زائد دستاویزات کی چھان بین اور 4556 افراد سے پوچھ گچھ کر چکی ہے جبکہ 4323 اشیا قبضے میں لی گئی ہیں۔

پراسیکیوٹر کیا کہتے ہیں؟

اس مقدمے میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت اہم کیس ہے جس میں ملزمان پاکستان سے جرم کرنے کے لیے برطانیہ گئے۔

اُن کے بقول ملزمان نے وہاں جرم کیا اور فرار ہوگئے، جس کے بعد ملزمان پاکستان میں پکڑے گئے اور برطانیہ میں جرم کے تمام تر شواہد کو پاکستان کی عدالت میں سنا گیا اور گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے۔

اس کیس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی اور سرزمین پر جرم کرنے کے بعد سوچتا ہے کہ وہ بچ جائے گا تو اب ایسا ناممکن ہو جائے گا۔

خواجہ امتیاز کے بقول اس کیس میں عدالت نے فیصلہ کرنا ہے لیکن عدالتی اور تیکنیکی بنیاد پر اس کیس کے ذریعے ایسی مثالیں قائم ہوگئی ہیں جو مستقبل میں بھی اہم کیسز میں معاون ثابت ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG