رسائی کے لنکس

عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس مسترد


فائل فوٹو

واضح رہے کہ مبینہ طور پر اثاثے ظاہر نا کرنے اور بینکوں سے قرض معاف کروانے کے الزامات پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی طرف سے گزشتہ سال اراکین قومی اسمبلی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بجھوائے گئے تھے۔

پاکستان الیکشن کمیشن نے حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اس جماعت کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نا اہلی سے متعلق دائر ریفرنس کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مبینہ طور پر اثاثے ظاہر نا کرنے اور بینکوں سے قرض معاف کروانے کے الزامات پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی طرف سے گزشتہ سال اراکین قومی اسمبلی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بجھوائے گئے تھے۔

اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینج نے کی، تاہم جمعرات کو اس بارے میں مختصر فیصلہ سنایا گیا۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر ریفرنس میں اُن کی ماضی میں بنائی گئی آف شور کمپنی کے ذکر کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ اُنھوں نے اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ کے بارے میں بھی درست حقائق بیان نہیں کیے تھے۔

جب کہ جہانگیر ترین پر الزام تھا کہ اُنھوں نے اپنی ایک شوگر مل کے نام پر 10 کروڑ سے زائد کا قرض لیا جو بعد میں اُنھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں زرعی ترقیاتی بینک سے معاف کرا لیا تھا۔

عمران خان اور جہانگیرترین ان الزامات کو رد کرتے رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی عمارت کے باہر تحریک انصاف کے ایک سینیئر رہنما نعیم الحق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’یہ حقائق کی فتح ہے، یہ مفروضوں کی شکست ہے۔‘‘

اُنھوں نے اسیپکر ایاز صادق کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے اُن کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

جب کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

اُن کا موقف تھا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین نے تکنیکی طریقے سے خود کو بچایا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG