رسائی کے لنکس

طاہر القادری سڑکوں پر نکلے تو ان کا ساتھ دیں گے: عمران خان


فائل فوٹو
فائل فوٹو

عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کردی گئی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے معاملے پر طاہر القادری کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں اور اگر طاہر القادری انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے تو وہ ان کا ساتھ دیں گے۔

جمعرات کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں اپنے خلاف زیرِ سماعت مقدمات میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرِقانون پنجاب رانا ثنا اللہ کے استعفوں کا مطالبہ بھی دہرایا۔

عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ جیسے لوگ مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں اور اس معاملے پر ہمارے کٹھ پتلی وزیراعظم کو ترک صدر طیب ایردوان جیسا مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

قبل ازیں تحریکِ انصاف کے چیئرمین 2014ء کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ اور پاکستان ٹیلی ویژن کے مرکزی دفتر پر حملوں، کارکنوں کو پولیس سے چھڑانے اور ایک پولیس افسر پر تشدد کے مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند کے روبرو پیش ہوئے۔

جمعرات کو ہونے والی سماعت میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالتی دائرۂ کار کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ مقدمات دہشت گردی کے نہیں لہذا انسدادِ دہشت گردی کی عدالت یہ کیس نہیں سن سکتی۔

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل کا آغاز ہی عدالتی دائرۂ کار کو چیلنج کرتے ہوئے کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ دہشت گردی کے مقدمات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے مظاہرین پر بھی دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہوئے تھے لیکن جب معلوم ہوا کہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ کارکن ہیں تو مقدمات ختم ہوگئے۔

اس موقع پر بابر اعوان نے حکومت اور فیض آباد دھرنا مظاہرین کے درمیان ہونے والا معاہدہ بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پر بھی دھرنے کا الزام ہے لیکن تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے ایک ڈنڈا بھی برآمد نہیں ہوا۔

مقدمات میں تھانہ سیکرٹریٹ کے تفتیشی افسر انیس احمد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان شاملِ تفتیش ہوگئے ہیں اور ان کی حد تک تفتیش مکمل ہوگئی ہے۔

سرکاری وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ 14 نومبر کو عمران خان نے درخواست ضمانت دائر کی۔ عمران خان کو پہلے ہی کافی وقت دیا جاچکا ہے۔ اب عمران خان تاریخی حربے استعمال کررہے ہیں۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ سیدھا سیدھا دہشت گردی کا مقدمہ ہے۔ دھرنے کے دوران عمران خان نام لے کر آئی جی پولیس کو دھکمیاں دیتے رہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم وزیرِ اعظم ہاؤس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس عمران خان کی ساری تقاریر کا ریکارڈ ہے اورعمران خان کے خلاف سارے شواہد موجود ہیں۔

عدالت نے عمران خان کی عدالتی دائرۂ کار کو چیلنج کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کردی جبکہ عمران خان کی عبوری ضمانت میں بھی 11 دسمبر تک توسیع کردی گئی اور عمران خان کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم بھی صادر کردیا۔

سماعت کے بعد جب عمران خان گاڑی میں بیٹھنے لگے تو انہوں نے اپنے وکیل بابر اعوان پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں تو سمجھا تھا کہ آج آخری پیش ہوگی لیکن اب یہ بلاتے جائیں گے اور میں پیش ہوتا جاؤں گا۔

XS
SM
MD
LG