رسائی کے لنکس

logo-print

زلفی بخاری کا نام ’اِی سی ایل‘ میں ڈال دیا گیا


پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست، زلفی بخاری کا نام اگزٹ کنٹرول لسٹ (اِی سی ایل) میں ڈال دیا گیا ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی تھی۔

نیب سربراہ کے مطابق، ادارہ عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس کے لیے، ان کا نام ای سی ایل میں ڈال کر بیرون ملک جانے سے روکنے کی سفارش کی گئی تھی۔

جون میں زلفی بخاری عمران خان کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جا رہے تھے کہ امیگریشن حکام نے ان کا نام بلیک لسٹ میں ہونے کے باعث بیرون ملک سفر سے روک دیا تھا۔ تاہم، کچھ دیر بعد ہی ان کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ نے زلفی بخاری کو عمرے پر جانے کے لئے چھ دن کا استثنیٰ دیا تھا۔ جس کے بعد نگراں وزیر اعظم ناصر الملک نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے قریبی ساتھی کے معاملے پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی تھی۔

یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں شامل تھا جسے نکلوانے میں عمران خان نے کردار ادا کیا۔ مگر وزارتِ داخلہ کے حکام نے سینیٹ کمیٹی کے سامنے وضاحت کی کہ اُن کا نام بلیک لسٹ میں شامل تھا اور نہ ہی تحریک انصاف کے چیئرمین نے اس ضمن میں کوئی کردار ادا کیا۔

بعد ازاں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ زلفی بخاری پر سفری پابندیاں بھی ختم کی جائیں۔

زلفی بخاری دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ ان کے پاس پاکستان کے علاوہ برطانوی شہریت بھی ہے۔

حالیہ انتخابات کے دوران بھی اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 میں زلفی بخاری عمران خان کی انتخابی مہم چلاتے رہے۔ زلفی بخاری برطانیہ میں ہی رہتے ہیں اور عمران خان کے برطانیہ کے دوروں کے دوران ان کے گھر ہی قیام کرتے ہیں۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے پاسپورٹ بلاک کرتے ہوئے ان دونوں کے نام وزارت داخلہ کی امیگریشن بلیک لسٹ میں شامل کر دیے ہیں۔

وزارت داخلہ کے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈائریکٹوریٹ کو حسین اور حسن نواز کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرکے ان کا پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست نیب نے کی تھی۔ وزارت داخلہ نے نیب کی سفارش پر نواز شریف کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کے پاسپورٹ بلاک کردیئے۔ دونوں پاکستانی پاسپورٹ پر سفر نہیں کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز میں باربار طلب کیے جانے کے باوجود عدم پیشی پر حسین اور حسن نواز کو اشتہاری قرار دے کر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے نیب نے وزارت داخلہ کو درخواست کی تھی۔ فواد حسن فواد پہلے ہی نیب کی تحویل میں ہیں اور پنجاب میں مختلف حکومتی اسکیموں میں کرپشن کے حوالے سے ان سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG