رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان نااہلی کیس، جسٹس شوکت صدیقی بینچ سے الگ


جسٹس شوکت عزیز صدیقی۔ فائل فوٹو

رواں ماہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خفیہ ایجنسی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے اس دور میں آئی ایس آئی پوری طرح عدالتی معاملات میں جوڑ توڑ کرنے میں ملوث ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آرٹیکل 62 کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیرمین اور پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے کیس کی سماعت کرنے والا ڈویژنل بینچ تبدیل کردیا گیا۔ بینچ سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو علیحدہ کردیا گیا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے دو رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ 31 جولائی کو درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

عمران خان کی نااہلی کیلئے درخواست کیس کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹں میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں۔

اس سے پہلے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس عامر فاروق اس بینچ میں شامل تھے اور انہوں نے عمران خان سے یکم اگست تک جواب طلب کررکھا تھا۔

جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی نے عمران خاں کی نااہلی کی درخواست دائر کررکھی ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان نے اپنی بیٹی ٹیریان سے متعلق جھوٹ بولا جس پر عدالت عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ہیں۔ گزشتہ ماہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے دعوی کیا تھا کہ عمران خان اور ان کی بیٹی ٹیریان کے بارے میں بیرون ملک سے دستاویزی ثبوت مل گئے ہیں۔

افتخار چوہدری نے کہا تھا کہ بیرون ممالک سے شواہد آگئے ہیں،اس بات کے دستاویزی شواہد ہیں کہ عمران خان باہر کے ملک میں سیتا وائٹ کی بیٹی کو اپنی بچی کہتے ہیں اور پاکستان میں اسے اپنی بچی نہیں کہتے۔ انھوں نے کہا عمران خان کواپنی بیٹی کوماننا چاہیے انھوں نے آج تک اپنے دوبیٹوں کی بات کی ہے۔ انھوں نے ہمیشہ کہاکہ میرے دوبیٹے ہیں۔کاغذات نامزدگی میں بھی دوبیٹوں کو ظاہرکیا ہے، ایک باپ کوہم نے حقائق بتانے ہیں کہ تم اہل نہیں ہوکہ الیکشن لڑسکو، عمران خان کے کاغذات نامزدگی میں بیٹوں کا ذکر ہے بیٹی کا نہیں۔

رواں ماہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خفیہ ایجنسی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے اس دور میں آئی ایس آئی پوری طرح عدالتی معاملات میں جوڑ توڑ کرنے میں ملوث ہے۔

بقول اُن کے، ’’آئی ایس آئی والے اپنی مرضی کے بنچ بنواتے ہیں۔ خفیہ ادارے آئی ایس آئی والوں نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کر کے کہا نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا۔

ترجمان پاک فوج نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے ریاستی اداروں پر لگائے گئے سنگین الزامات کی تحقیقات اور کارروائی کی جائے جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہوگا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی گذشتہ 7 سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اُنھیں 21 نومبر سنہ 2011 کو صوبہ پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کردیا گیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اُنھوں نے سی ڈی اے کے حکام پر اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزین و آرائش کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

دوسری جانب ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ مجرمان کی درخواستوں کی سماعت کرنے والے بنچ کی سربراہی جسٹس عامرفاروق کریں گے جبکہ جسٹس گل حسن اورنگزیب بھی بینچ میں شامل ہیں۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف تینوں مجرموں نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جن میں سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز دوسری عدالت منتقلی کی درخواست پر بھی آئندہ ہفتے سماعت ہوگی۔

رواں ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں گرمیوں کی چھٹیاں ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی جانب سے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیل نو ستمبر کے بعد سنی جائے گئی۔

اس بینچ کے لیے بھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی سینئر جج اسلام آباد میں ہے موجود تھے لیکن انہیں بینچ میں شامل نہیں کیا گیا اور جسٹس گل حسن اورنگزیب کو بنچ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی جانب سے سولہ جولائی کو احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ اپیلوں پر پہلی سماعت سترہ جولائی کو ہوئی تھی ۔ مجرمان کی جانب سے فیصلہ کالعدم قرار دینے ، سزا معطل کرنے اور نواز شریف کے خلاف دیگر ریفرنسز دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اور انکی صاحبزادی مریم اور داماد کیپٹن صفدر اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کو پاکستان کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG