رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانیوں کا 10 ارب ڈالر باہر پڑا ہوا ہے: عمران خان


قومی اسمبلی

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں سلیکٹڈ کی بات وہ کر رہے ہیں جنہوں نےامریکا کو این آر او کیلئے کہا۔ تاہم، وزیر اعظم نے اس حوالے سے مزید تفصیل نہیں بتائی کہ انہیں کس سیاسی شخصیت نے امریکہ کے ذریعے این آر او مانگا ہے۔

ہفتہ کے روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی عدم موجودگی میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’’شہباز شریف نے دکھ بھری تقریر کی اور الزام ہمارے اوپر ڈال دیا۔ شہباز شریف نے کہا روپیہ گر گیا ہے۔ وہ یہ بھی بتا دیتے کہ قیمتیں کیوں گریں؟ روپے کی قیمت گرنے کی وجوہات بھی بتا دیتے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی وجہ سے ہمیں 19 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے تمام معاشی مشکلات آ رہی ہیں۔

عمران خان نے ایک بار پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ جس کو مجرم کہے وہ پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے؟ وہ جن پر عوام کے پیسے چوری کرنے کا الزام ہے وہ اسمبلی میں تقریر کیسے کرسکتے ہیں؟ اسپیکر صاحب آپ نے بھی انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی۔ اسی اسمبلی کے اندر مجرم شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کے لیے قانون سازی کی جارہی تھی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’پاکستانیوں کا 10 ارب ڈالر باہر پڑا ہوا ہے۔ یہاں سے پیسا باہر لے جانے کے ذمےدار تو یہ لوگ ہیں، جب کہ یہ لوگ تاریخی خسارہ چھوڑ کرگئے اور ہم سنبھال رہے ہیں تو اس پر سوال کر رہے ہیں‘‘۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ نچلے طبقے پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے 70 فیصد بجلی صارفین کے لئے 270 ارب کی سبسڈی رکھی ہے، جب کہ کسانوں کے لیے ایک جامع پیکیج لے کر آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں لانے کے لیے سہولتیں دینے کے لیے پرعزم ہیں اور اگلےہفتے مختلف اسکیم جاری ہونا شروع ہو جائیں گی۔

وزیر اعظم نے دنیا کے مختلف شہروں کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نیا بلدیاتی نظام لا رہے ہیں وہ ایسا سسٹم ہوگا جس کے تحت شہر اپنا ریونیو خود اکٹھا کر سکیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ صوبوں کو فنڈز دینے کے بعد وفاق کو خسارے کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں کا خیال رکھیں۔ا

نہوں نے کراچی سے متعلق کہا کہ کراچی کے لیے 45 ارب روپے کا اسپیشل پیکیج لانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن، بدقسمتی سے کراچی میں جو پیسہ خرچ ہونا چاہیے تھا وہ خرچ نہیں ہوا۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں پاکستان فوج کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس حقیقت کے برعکس کہ پاکستان کو مختلف محاذ پر دہشت گردی کا سامنا ہے پاک فوج نے مالی مشکل حالات کے پیش نظر اپنا بجٹ فریز کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خود کہا کہ جو بجٹ بچایا جائے اسے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں ترقیاتی کاموں میں خرچ کیا جائے۔

وزیر اعظم جس وقت یہ تقریر کر رہے تھے اس وقت اپوزیشن واک آؤٹ کرکے جا چکی تھی۔ تاہم، بعد میں گوجر خان میں ایک جلسہ میں بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملک معاشی اور قیادت کے ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جو پہلے نہ دیکھا نہ سنا۔ یہ بحران عمران کی نالائقی اور سلیکشن کی بنا پر ہے‘‘۔

بلاول نے کہا کہ ’’سلیکٹڈ وزیر اعظم جب بھی آتے ہیں ظلم کر کے بھاگ جاتے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG