رسائی کے لنکس

الیکشن ایکٹ کے خلاف عمران خان کی درخواست واپس


فائل فوٹو

اعتراض میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے چیئرمین نے الیکشن ریفارمز ایکٹ کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا اور متعلقہ فورم سے رجوع نہ کرنے کی وجوہات سے بھی آگاہ نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017ء کے خلاف دائر درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے عمران خان کی الیکشن ریفارمز ایکٹ کے خلاف درخواست پر اعتراض میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے چیئرمین نے الیکشن ریفارمز ایکٹ کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا اور متعلقہ فورم سے رجوع نہ کرنے کی وجوہات سے بھی آگاہ نہیں کیا۔

رجسٹرار آفس سے عمران خان کی درخواست پر ایک اعتراض یہ بھی سامنے آیا ہے کہ درخواست کے ساتھ لگایا جانے والا سرٹیفکیٹ بھی قواعد کے مطابق نہیں۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حال ہی میں پارلیمان سے منظور ہونے والے الیکشن ریفارمز ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے تحت عدالت سے نااہل شخص کو کسی سیاسی جماعت کا عہدہ رکھنے کی اجازت دیدی گئی تھی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ پاناما فیصلے کے نتیجے میں نوازشریف کو رکن قومی اسمبلی کے لیے نا اہل کیا گیا تھا جبکہ پاناما کیس کے نتیجے میں ہی نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) کے عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔ لیکن نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) میں صدر کے عہدے پر دوبارہ لانے کے لیے الیکشن ایکٹ میں خصوصی ترامیم کی گئیں۔

درخواست میں عمران خان نے کہا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں کی گئیں ترامیم آئین سے متصادم ہیں کیونکہ بطور رکن، اسمبلی سے نااہل ہونے والا شخص پارٹی عہدہ نہیں سنبھال سکتا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء پولیٹیکل پارٹیز آرڈرز 2002ء کے خلاف ہے اور الیکشن ایکٹ 2017ء میں ہونے والی ترامیم آئینی آرٹیکل 204 اور 175 کے خلاف ہیں۔

عمران خان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ الیکشن ریفارمز ایکٹ کی شقوں، جن میں 9، 10 اور 203 شامل ہیں، کو کالعدم قرار دیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG