رسائی کے لنکس

عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد، پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا اعلان


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیرِ اعظم عمران خان کی تقاریر، گفتگو اور بیانات نشر کرنے پرمکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

اتوار کو پیمرا کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 27 کے تحت عائد کی گئی ہے۔

اس پابندی کے تحت پاکستان میں ٹی وی چینلز عمران خان کا بیان، گفتگو یا خطاب براہِ راست یا ریکارڈ نشر نہیں کر سکیں گے۔

پیمرا نے ملک کے تمام سیٹلائٹ چینلز کو احکامات پر عمل در آمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم کے حوالے سے پیمرا کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اداروں پر حملے کر رہے ہیں اس لیے پابندی لگائی گئی۔

واضح رہے کہ عمران خان گزشتہ برس حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسٹیبلشمنٹ اور اعلیٰ شخصیات پر مختلف الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

عمران خان پر عائد کی گئی پابندی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت مکمل طور پر گھبرا چکی ہے، اسی لیے عمران خان کی آواز دبانے کی ایک اور مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے عمران خان کی تقاریر اور بیانات ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ تحریکِ انصاف اس حکم کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔

تحریکِ انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے الیکشن مہم کا آاغاز کیا تو حکومت نے پیمرا کے ذریعے ان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی۔

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ یہ آئین کے ساتھ مذاق ہے جب کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی بھی ہے۔

مزاحیہ مقدمات میں بلایا جا رہا ہے، توشہ خانہ کیس کی سماعت لائیو دکھائی جائے؛ عمران خان کا مطالبہ

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں'' ایک مزاحیہ کیس میں'' بلایا جا رہا ہے، ان کا توشہ خانہ کیس ٹی وی پر لائیو دکھایا جائے۔

اتوار کو لاہور میں زمان پارک میں کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ نہ کسی انسان یا ادارے کے سامنے جھکا ہوں اور نہ کھی اپنے حامیوں کو جھکنے دوں گا۔

قبل ازیں اسلام آباد پولیس کی ٹیم زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ آئی تھی، جو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ کیس میں ناقابلِ ضمانت گرفتاری کے وارنٹ اور سات مارچ کو عدالت میں پیشی کی دستاویزات پر ان کے دستخط لینے کے بعد لوٹ گئی تھی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کارکنوں کو جیل بھرو تحریک میں بھر پور حصہ لینے پر حوصلہ افزائی اور شکریہ ادا کرنے کے لیے بلایا ہے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کو جس طرف لے گئے ہیں، اس کا مقابلہ قوم کر سکتی ہے، ہجوم نہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ انہیں عوام کے جذبے اور جنون کا اندازہ ہے، غلام قوم کوئی بڑا کام نہیں کر سکتی، آزاد قوم اوپر جا سکتی ہے۔

کارکنان سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھکاریوں کی طرح پیسے مانگ رہے ہیں لیکن کوئی نہیں دے رہا۔

عمران خان کے بقول جیل بھرو تحریک سے لوگوں کا خوف دور کرنا تھا۔ جیسے جیسے تحریک آگے بڑھتی گئی، زیادہ لوگ نکلنا شروع ہو گئے۔

فوج کے سابق سرراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب اشارہ کرکے انہوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف نے سازش کرکے ملک پر جرائم پیشہ افراد کو اوپر بٹھا دیا۔

اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں راستے سے ہٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسی لیے عدالتوں میں پیشی پر کوئی سیکیورٹی نہیں ہوتی۔

واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت کے سربراہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اور ان کی سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات نہیں کیے جا رہے۔

ملک کے خفیہ ادارے کے افسر کی جانب نام لیے بغیر اشارہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ''ڈرٹی ہیری اپنے ادارے کو بدنام کر رہا ہے۔ یہ نارمل آدمی نہیں ہے، یہ حیوان ہے۔ ذہنی مریض کو ننگا کرنے کا شوق ہے۔ اس نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو برہنہ کرکے تشدد کیا اور اس کی ویڈیوز بنائی گئیں''۔

سابق وزیرِا عظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب نواز شریف جیل میں تھے تو انہیں حکم آیا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو وہ بحیثیت وزیرِ اعظم ذمہ دار ہوں گے۔

ان کے بقول اگر قوم ان کے سامنے کھڑی نہ ہوئی، تو کوئی مستقبل نہیں ہے۔ جب تک قوم ظلم کا مقابلہ نہیں کرے گی، اس کا مستقبل اندھیرے میں رہے گا۔

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف نے گزشتہ ماہ انتخابات کے انعقاد کے لیے جیل بھرو تحریک شروع کی تھی جس میں کئی شہروں میں کارکنان نے گرفتاریاں پیش کیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخیں دینے کے احکامات جاری کیے تو پی ٹی آئی نے جیل بھرو تحریک ختم کی۔

اسی دوران عمران خان عدالتوں میں بھی پیش ہوئے جہاں سے ان کو مختلف مقدمات میں ضمانت دی گئی البتہ توشہ خانہ کیس میں وہ اسلام آباد کی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرکے سات مارچ کو طلب کیاہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کا سابق وزیرِ اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کے لیے قانون کچھ اور ہے جب کہ عام آدمی کے لیے قانون کچھ اور ہے۔ قانون ایک جیسا ہوگا تو معیشت مستحکم ہو گی۔

اتورا کو فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قانون ایک جیسا نہیں ہوگا تو آزاد اور شفاف الیکشن کیسے ہوں گے؟

XS
SM
MD
LG