رسائی کے لنکس

logo-print

پاک امریکہ تعلقات، سرد مہری میں کمی کا امکان ہے، تجزیہ کار


وزیر اعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں۔ 22 جولائی 2019

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بدھ کو واشنگٹن کی ملاقات کا بنیادی محور اگرچہ افغانستان کے معاملات تھے، تاہم اس دورے کے دوران امریکی اور پاکستانی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جسے مبصرین دونوں ملکوں کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں پیدا ہونے والی سردمہری کے خاتمے کی طرف پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان تنازع کے حل کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت پاکستان کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، امریکہ اب بھی پاکستان سے مزید اقدامات کی توقع کرتا ہے جو افغان تنازع کے حتمی سیاسی حل کے لیے واشنگٹن کے خیال میں نہایت ضروری ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان، افغان تنازع کے سیاسی حل کے لیے امریکہ کی مدد کر سکتا ہے۔ اس صورت میں نہ صرف امریکہ کی طرف سے پاکستان کی معطل شدہ امداد بحال ہو سکتی ہے، بلکہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری کو کسی حد تک دور کرنے میں مدد ملی ہے، جو تجزیہ کار کے بقول، عمران خان کی حکومت کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

ان کے بقول، ‘‘ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اتفاق رائے افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل پر تھا، اور ان کے بقول، اگر طالبان کے ساتھ امریکہ کی بات چیت میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوتی ہے تو اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔ ’’

تجزیہ کار اور صحافی زاہد حسین بھی اس رائے سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات میں یقینی طور پر برف پگھلی ہے۔ ان کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے، جن میں بہتری آئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ، ان کے بقول، یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو دونوں ممالک کو قریب لا رہا ہے۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اسی تناظر میں نیوز کانفرنس میں صدر ٹرمپ کی گفتگو کا محور افغانستان ہی تھا۔

ان کے بقول، ‘‘پہلے امریکہ افغانستان میں خرابی کی وجہ پاکستان کو قرار دیتا تھا لیکن اب امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان افغان تنازع کے حل کا ایک ذریعہ ہے ۔’’

تجزیہ کار زاہد حسین نے مزید کہا کہ افغانستان تنازع کے حل کے لیے پاکستان کا کردار امریکہ کے لیے اطمینان کا باعث بنتا ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستان امریکہ سے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی توقع کر سکتا ہے۔

ان کے بقول، امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان طالبان کو جنگ بندی اور افغان حکومت سے بات چیت پر آمادہ کرنے پر اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم، دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹینینٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ پاکستان طالبان کو ان چیزوں پر آمادہ کر سکے، کیونکہ ان کے بقول، طالبان کا انحصار اس وقت صرف پاکستان پر نہیں ہے، اور فی الحال وہ جنگ بندی اور کابل حکومت سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کسی کے کہنے پر اپنی اسٹرٹیجی تبدیل نہیں کریں گے اور ان کے خیال میں وہ جنگ بندی اور دیگر افغان دھڑوں، بشمول افغان حکومت سے بات چیت پر اتفاق کرنے سے پہلے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے معاملے کا حتمی حل چاہتے ہیں۔

دوسری طرف صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے متنازع معاملے پر ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی انہیں یہ درخواست کر چکے ہیں۔ تاہم، بھارت نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ سے کوئی ایسی درخواست کی تھی۔ بھارت کا موقف رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تمام معاملات باہمی سطح پر حل کرنے کا حامی ہے۔

تاہم، بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ظفر جسپال کہتے ہیں کہ کشمیر تنازع کے حل کے لیے ٹھوس پیش رفت بھارت کی جانب سے اس معاملے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرنے پر رضامندی سے ہی ہو گی۔

ان کے بقول، پہلی بار امریکہ کے طرف سے ایسا اشارہ ملا ہے کہ وہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جو تجزیہ کار کے بقول، سفارتی طور ایک بڑی تبدیلی کا مظہر ہے۔

تاہم، سینئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ کشمیر تنازع پر امریکہ کی ثالثی کی پیش کش کے باجود اس جانب کچھ زیادہ پیش رفت کا امکان نہیں ہے کیونکہ امریکہ کا بھارت پر اتنا اثر و سوخ نہیں ہے کہ وہ اسے اس بات پر آمادہ کر سکے۔

ان کے بقول، امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے مواقعوں پر دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کم کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔ لیکن جنوبی ایشیا کے ان دو حریف جوہری ملکوں کے درمیان ثالثی کا امکان موجود نہیں ہے، کیونکہ بھارت کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول کرنے پر تیار نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG