رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کا اتوار سے ایران اور سعودی عرب کا دورہ


فائل فوٹو

وزیراعظم عمران خان اتوار کے روز ایران کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ سعودی عرب کا بھی دورہ کریں گے۔ عمران خان کے اس دورے کو ایران سعودی عرب ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے دورہ ایران کی تصدیق کی اور کہا کہ وزیراعظم دورہ ایران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اتوار کی صبح ایران روانہ ہوں گے جہاں وہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی صدر حسن روحانی سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں حالیہ دنوں میں خلیج میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے خطہ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی تمام کوششوں کو سراہا ہے، جب کہ سعودی عرب نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

عمران خان اپنے ایک روزہ دورہ ایران کے بعد اتوار اور پیر کی درمیانی شب وطن واپس پہنچ جائیں گے۔ پیر کے روز اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس رکھا گیا ہے اور اس کے اگلے روز وزیراعظم عمران خان برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن سے اسلام آباد میں ملاقات کریں گے اور اسی دوپہر سعودی عرب روانہ ہو جائیں گے۔

عمران خان کی منگل کی شامل سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقاتیں طے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان متوقع طور پر ان سے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے پر بات کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا شیڈول طے کر لیا گیا ہے، لیکن اس میں کسی ہنگامی ضرورت کے پیش نظر تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

یہ امکان بھی موجود ہے کہ عمران خان اس ماہ کے آخر میں ایک بار پھر سعودی عرب جائیں جہاں وہ فیوچرانوسٹمنٹ انی شییٹو کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت سعودی فرمانروا نے دی ہے۔ یہ کانفرنس 29 سے 31 اکتوبر تک ریاض میں منعقد ہو گی جس میں بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے دورہ ایران اور سعودی عرب کے ایجنڈا سے متعلق اب تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور دفترخارجہ نے بھی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دورہ کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا تھا۔

وزیراعظم ایک ایسے موقع پر دونوں ممالک کے دورے پر جا رہے ہیں جب ایران اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ آج بھی ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ جدہ کی بندرگاہ کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے جس سے اس میں آگ لگ گئی۔

ایرانی ٹیلی وژن نے نیشنل ایرانین نیشنل کمپنی کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے باعث دو تیل بردار جہازوں کو آگ لگ گئی۔ میزائلوں کا نشانہ بننے والا جہاز جدہ سے 60 کلومیٹر بحیرہ احمر میں موجود تھا۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کی بندرگاہ کے قریب آئل ٹینکر میں دھماکے سے 2 اسٹور رومز کو نقصان پہنچا اور جہاز سے بحیرہ احمر میں تیل کا رساؤ شروع ہو گیا ہے۔

عمران خان کے سعودی قیادت کے ساتھ تعلقات میں خاصی بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور وزیراعظم کے امریکہ میں جنرل اسمبلی خطاب کے لیے جانے سے قبل بھی انہوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے بعد امریکہ جانے کے لیے وزیراعظم کمرشل فلائٹ کے ذریعے جانا چاہتے تھے لیکن سعودی ولی عہد نے انہیں اپنا خصوصی طیارہ دیا جس پر وہ امریکہ گئے تھے۔

اس کے علاوہ حالیہ عرصے میں سعودی عرب نے پاکستان کے مشکل معاشی حالات میں تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت اور نقد رقم بھی دی جس سے پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن میں کچھ بہتری آئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG