رسائی کے لنکس

پاکستان میں توہین مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور قانون کے مطابق اس جرم کی سزا موت ہے اور حالیہ مہینوں میں متعدد افراد کو سماجی میڈیا پر مبینہ طور پرتوہین مذہب سے متعلق مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران حکومت نے مبینہ طور پردو سو سے زائد ویب سائٹس اور ویب ایڈریسز تک رسائی کو روک دیا جن پر زیادہ ترایسا مواد پوسٹ کیا جارہا تھا جسے مبینہ طور توہین مذہب سے متعلق قرار دیا گیا یا وہ سیاسی تنقید کا مظہر تھا۔

یہ بات سماجی میڈیا صارفین کے حقوق سے متعلق دو سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کی ایک جائزہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

'اوپن ابزرویٹری آف نیٹ ورک انٹر فیرنس' اور 'بائٹس فار آل' کی رپورٹ کے مطابق 2014 ء سے 2017ء تک جمع کیے گئے اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت کے کہنے پر انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والے 22 اداروں نے اس عرصے میں 210 ویب ایڈریسز اور ویب سائٹس کو بلاک کیا۔

رپورٹ کے مطابق جن ویب سائٹس اور ویب ایڈریسز تک رسائی روکی گئی ان پر ایسا مواد پوسٹ کیا گیا جس کے بارے میں خیال کیا گیا کہ وہ پاکستان کے قانون کے مطابق مبینہ طور توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق سے متعلق تنظیم ’بائٹس فار آل‘ کے عہدیدار اور رپورٹ کے ایک مصنف ھارون بلوچ نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال جنوری میں متعدد بلاگرز کے لاپتا ہونے کے بعد صورت حال مزید خراب ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ " ہم نے بہت ساری ایسے ویب ایڈریسز کو بلاک پایا ہے جن پر مذہبی اظہار رائے کے بارے میں مواد موجود تھا اور دوسری قسم ایسی ویب سائٹس کی ہے جن پر بعض لوگ مختلف سیاسی معاملات پر تنقید کرتے ہیں۔ حکومت نے بہت ساری ایسی ویب سائیٹس اور ویب ایڈریسز کو بلاک کیا ہے۔"

رواں سال جنوری کے اوائل میں سماجی میڈیا پر سرگرم پانچ کارکن لاپتا ہو گئے تھے جو اب بازیاب ہو چکے ہیں۔

اس وقت بعض افراد کی طرف سے ان بلاگر پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے گئے تھے تاہم وہ ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔

اگرچہ حکومت کی طرف سے ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی اس حالیہ رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رکن طاہر اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سوشل میڈیا پر آزادی اظہار پر کسی قدغن کے حق میں نہیں لیکن توہین مذہب سے متعلق مواد کی نشر و اشاعت ان کے بقول غیر قانونی اقدام ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ" حکومت نے سوشل میڈیا پر آزادی اظہار پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے اور نہ ہی قانون میں ایسی کوئی بات ہے کہ سیاسی ناقدین کے خلاف (کارروائی ہو گی) اگر ایسا ہوا ہے تو یہ قابل افسوس بات ہے۔ "

پاکستان میں توہین مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور قانون کے مطابق اس جرم کی سزا موت ہے اور حالیہ مہینوں میں متعدد افراد کو سماجی میڈیا پر مبینہ طور پرتوہین مذہب سے متعلق مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنطیمیں اور انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز مواد کی تشہر کرنے والوں پر تو نظر رکھی جانی چاہیئے، لیکن اس کو جواز بنا کر اُن لوگوں کی رائے کو نہیں دبانا چاہیئے جو سوشل میڈیا پر سماجی اور سیاسی معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG