رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: دو جزائر سعودی عرب کے حوالے کرنے کے خلاف مظاہرے


مصری کی حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ان جزائر پر تاریخی اور قانونی طور پر حق ملکیت رکھتا ہے اور مصر سعودی عرب کی اپنی زمین ہی اسے واپس لوٹا رہا ہے۔

مصر نے بحیرہ احمر میں واقع دو جزائر کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے خلاف ملک میں جمعے کو مظاہرے ہوئے۔

حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب سکیورٹی فورسز نے رکاوٹوں اور آنسو گیس کے ذریعے مظاہروں کو روکنے یا منتشر کرنے کی کوشش کی۔

قاہرہ کا پریس کلب ان چند جگہوں میں شامل ہے جہاں مظاہرے کرنے کی اجازت ہے۔ سینکڑوں لوگوں نے پریس کلب کے باہر حکومت مخالف نعرے لگائے جبکہ وہاں پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔

تیران اور صنافیر جزائر کو سعودی کے حوالے کرنے کے خلاف مظاہرے میں لوگوں نے ’’حکومت مردہ باد‘‘ اور ’’عواد نے اپنی زمین بیچ دی‘‘ کے نعرے لگائے۔

دوسرا جملہ عربی زبان میں محاورتاً استعمال کی جاتا ہے کیونکہ مصر میں اپنی زمین چھوڑنے کو باعث شرمندگی سمجھا جاتا ہے۔

مصری کی حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ان جزائر پر تاریخی اور قانونی طور پر حق ملکیت رکھتا ہے اور مصر سعودی عرب کی اپنی زمین ہی اسے واپس لوٹا رہا ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کو کہا تھا کہ ’’ہم نے ریت کا ایک ذرہ بھی نہیں چھوڑا۔‘‘

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جزائر سعودی عرب کے حوالے کرنے سے قبل نہ تو عوام اور نہ ہی نو منتخب شدہ پارلیمان سے مشورہ لیا گیا۔

یہ جزائر نہ صرف اہم جغرافیائی مقام رکھتے ہیں بلکہ یہ بحیرہ احمر میں واقع مصر کے ایک نشینل پارک کا حصہ ہیں۔

گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران مصر کی سڑکیں خاموش رہی ہیں اور حکومت مخالف آوازیں کمروں کے اندر ہی بند رہیں۔

مگر مظاہروں میں شریک ایک ستائس سالہ یونیورسٹی طالبعلم محمد طارق نے کہا کہ جزائر کا معاملہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا ہے۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ جزائر سعودی عرب کے حوالے کرنے سے ان دونوں ممالک کو جوڑنے کے لیے بحیرہ احمر میں سعودی معاونت سے ایک پل تعمیر کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

علاقے میں ایران کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی طاقت کے تناظر میں حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور مصر کے تعلقات میں فروغ کے لیے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے قاہرہ کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے مصر کو چوبیس ارب ڈالر کے قرض اور سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔

ان معاہدوں میں سعودی معاونت سے ایک پندرہ کلومیٹر طویل پل کی تعمیر کا معاہدہ بھی شامل تھا۔

سعودی عرب نے 1950 میں ان جزائر کا کنٹرول مصر کے حوالے یہ کہہ کر کیا تھا مصر آبنائے تیران کی حفاظت کے لیے بہتر عسکری صلاحیت رکھتا ہے۔ 1967 میں جنگ چھڑنے کے بعد اسرائیل نے ان جزائر پر اس وقت قبضہ کر لیا تھا جب مصر نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ آبنائے تیران سے اسرائیلی جہازوں کو نہیں گزرنے دے گا۔

اسرائیل اور مصر کے درمیان 1979 میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت ان جزائر کا کنٹرول مصر کو لوٹا دیا گیا تھا۔

مصر کی طرف سے ان جزائر کو سعودی عرب کو واپس کرنے کے اعلان کے بعد مصر میں اس فیصلے پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔ تاہم مصری حکام کاخیال ہے کہ یہ تنقید بے جا ہے۔

XS
SM
MD
LG