رسائی کے لنکس

ایران کی بہائی اقلیت: مرکے بھی چین نہ پایاتوکدھرجائیں گے؟


تہران کے خاواران قبرستان میں بہائیوں کی قبروں کو پہلے اکھاڑا گیا اور پھر بلڈوزر پھیر کر زمین ہموار کر دی گئی۔
تہران کے خاواران قبرستان میں بہائیوں کی قبروں کو پہلے اکھاڑا گیا اور پھر بلڈوزر پھیر کر زمین ہموار کر دی گئی۔
  • تہران کے مضافات میں خاواران قبرستان میں 30 سے 45 بہائی افراد کی قبروں کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔
  • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 1200 بہائیوں پر یا تو مقدمے چل رہے ہیں یا ان کو سزائیں ہو چکی ہیں۔
  • بہائی ایران کی سب سے بڑی غیر مسلم اقلیت ہے۔
  • بہائی عقیدے کا آغاز 1844 میں ایران میں ہوا تھا اور اس کے بانی بہاؤ اللہ تھے۔

جہاں پہلے کبھی قبریں تھیں وہاں اب وہاں ہموار زمین کا ٹکڑا نظر آتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرن میں بہائی اقلیت کو مرنے کے بعد بھی ظلم و ستم کا سامنا رہتا ہے۔

بہائی انٹرنیشنل کمیونٹی (بی آئی سی) کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں مرنے والے کم از کم 30 سے 45 بہائی مذہب کے پیرو کار تہران کےایک مضافاتی علاقے میں خاواران قبرستان میں دفن ہیں، لیکن ان کی قبروں کا اب کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

بہائی انٹرنیشنل کمیونٹی کا کہنا ہے کہ جب مرنے والوں کو لحد میں اتارا گیا تھا تو ان کی قبروں پر کتبے نصب کیے گئے تھے۔ ان کے ناموں کی تختیاں تھیں اور ان پر پھول رکھے جاتے تھے، لیکن اب منظر پہلے جیسا نہیں ہے کیونکہ اس مہینے ایرانی حکام نے قبروں کو اکھاڑ دیا اور پھر بلڈوزر پھیر کر اس جگہ کو ہموار کر دیا۔

قبروں کی یہ بے حرمتی ایران کی سب سے بڑی غیر مسلم مذہبی اقلیت کے خلاف ایک نئے حملے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کمیونٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سے منظم ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور اقوام متحدہ کے حکام نے بہائیوں پر جاری جبر و استبداد پر تنقید کرتے ہوئے قبروں کی مبینہ توڑ پھوڑ کی مذمت کی ہے۔

نئی دہلی میں بہائیوں کی عبادت گاہ لوٹس ٹیمپل
نئی دہلی میں بہائیوں کی عبادت گاہ لوٹس ٹیمپل

دیگر اقلیتوں کے برعکس، بہائیوں کا عقیدہ ایران کے آئین میں تسلیم شدہ نہیں ہے اور پارلیمنٹ میں ان کے لیے کوئی نشست مختص نہیں ہے۔ انہیں ایران میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی نہیں ہے اور انہیں کاروباروں پر چھاپوں، اثاثوں کی ضبطگی اور گرفتاریوں جیسے اقدامات کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے۔

بی آئی سی کا کہنا ہے کہ ان پر روا رکھا جانے والا ظلم و ستم موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔

کمیونٹی کے مطابق، ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد، حکام نے بہائی ملکیت والے دو قبرستانوں کو ضبط کر لیا تھا اور اب مرنے والے بہائیوں کو زبردستی خاواران قبرستان میں دفن کر دیا جاتا ہے۔

جس جگہ انہیں دفن کرنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ ایک اجتماعی قبر کا مقام ہے جہاں 1988 میں سزائے موت پانے والے سیاسی قیدیوں کو دفن کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ میں بہائی کمیونٹی کے نمائندے سیمین فہندژ نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہائی کمیونٹی پر پر ممکن طریقے سے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

نیویارک میں نوروز کے موقع پر بہائیوں کی ایک تقریب۔ 21 مارچ 2024
نیویارک میں نوروز کے موقع پر بہائیوں کی ایک تقریب۔ 21 مارچ 2024

مرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئےسیمین کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عمر بھر ظلم و ستم کا سامنا کیا، ان سے یونیورسٹی جانے کا حق چھینا گیا اور اب ان کی قبریں تک مسمار کر دی گئیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے قبرستان میں قبروں کی توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں بہائیوں کو آخری رسومات کی ادائیگی اور تدفین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مرنے والے کو بھی معافی نہیں ملتی

قبروں کو مسمار کرنے کے واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران میں بہائی کمیونٹی پر جبر و استبداد میں اضافہ ہوا ہے۔ بہائیوں کا کہنا ہے ان کی تعداد لاکھوں میں ہے اور وہ اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم ہیں۔

بہائی کمیونٹی کی اہم شخصیات، مہوش ثابت(بائیں) اور فربیا کمال آبادی ۔ دونوں جیل میں دس سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
بہائی کمیونٹی کی اہم شخصیات، مہوش ثابت(بائیں) اور فربیا کمال آبادی ۔ دونوں جیل میں دس سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

بہائی کمیونٹی کی دو اہم شخصیات، 71 سالہ مہوش ثابت جو ایک شاعرہ ہیں اور 61 سالہ فریبا کمال آبادی، دونوں کو 2022 میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ جیل میں 10 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

اس سے پہلے بھی گزشتہ دو عشروں میں حکام ان دونوں کو جیل بھیج چکے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ حکومت کی جانب سے بہائیوں کی جائیدادوں پر قبضے کرنے میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے اور بہائیوں کو لمبی مدت کی قید کی سزائیں دینے کے لیے جعلی اور جھوٹے مقدمے بنائے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت کم ازکم 70 بہائی حراست میں ہیں یا جیل کاٹ رہے ہیں، جب کہ مزید 1200 بہائیوں کو عدالتی کارروائیوں کا سامنا ہے یا انہیں جیل کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔

بہائی عقیدہ، توحیدی نظریہ رکھنے والا مذہب ہے جو دیگر مذاہب کے مقابلے میں نیا ہے۔ اس کی جڑیں 19 ویں صدی کے اوائل کے ایران میں پیوست ہیں۔

بہائیوں کو بار ہا ایران کے دیرنہ دشمن اسرائیل کے ایجنٹ ہونے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بلا ثبوت ہوتے ہیں۔

اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ میں قائم بہائی عبادت گاہ۔ جس کی وجہ سے ایرانی حکومت بہائیوں کو یہودیوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔
اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ میں قائم بہائی عبادت گاہ۔ جس کی وجہ سے ایرانی حکومت بہائیوں کو یہودیوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔

بہائیوں کا ایک روحانی مرکز اسرائیل کے بندرگاہی شہر حیفہ میں ہے، لیکن اس مرکز کے قیام کی تاریخ اسرائیلی ریاست کے قیام سے پہلے کی ہے۔ اسرائیل 1948 میں وجود میں آیا تھا۔

اقوام متحدہ میں بہائی کمیونٹی کے نمائندے سیمین فہندژ کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ مرنے والوں کا بھی پیچھا کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں نہ کہ اس لیے کہ وہ قومی سلامتی یا معاشرے کے لیے خطرہ ہیں۔

بہائی کمیونٹی کے ارکان اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد 200 بہائیوں کو پھانسی دی گئی تھی اور اس کے بعد گزشتہ 45 برسوں کے دوران ان کے خلاف جاری ظلم و جبر کی شدت تبدیل ہوتی رہی ہے لیکن حالیہ برس ان کے لیے ایک سخت ترین ثابت ہوئے ہیں۔

ایران میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جاوید رحمان نے رواں ہفتے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ وہ بہائی کمیونٹی کے افراد پر مسلسل ظلم و ستم، من مانی گرفتاریوں اور ہراساں کیے جانے پر انتہائی دکھ اور صدمے میں ہیں۔

فہندژ کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ بہائیوں کے خلاف موجودہ کریک ڈاؤن کی وجہ کیا ہے لیکن یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکام ستمبر 2022 میں شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج کے تناظر میں ہر قسم کی اختلافی سوچ رکھنے والوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شکاگو میں قائم ایک بہائی عبادت گاہ۔
شکاگو میں قائم ایک بہائی عبادت گاہ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بہائیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا ملک میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال سے گہرا تعلق ہے۔

بہائی عقیدہ کیا ہے؟

بہائی عقیدے کا آغاز 1844 میں ایران کے ایک شہر قاجار میں ہوا۔ اس کے بانی بہاؤاللہ تھے۔ بہائی تعلیمات میں تمام دنیا اور پوری انسانیت سے پیار کرنا، اس کے لیے کام کرنا، عالمی امن اور بھائی چارے کو آگے بڑھانا، چغل خوری اور فضول باتوں سے بچنا شامل ہے۔

ابتدا میں بہائی عقیدے کو شیعہ اسلام کی ایک شاخ کے طور پر دیکھا گیا لیکن بعد ازاں اس نے ایک الگ مذہب کے طور پر اپنی شناخت بنا لی۔

بہائی دنیا کا سب سے نوعمر مذہب سمجھا جاتا ہے، اس کے پیروکاروں کی تعداد 60 لاکھ کے لگ بھگ ہے جن کا تعلق مختلف ثقافتوں، نسلوں، اور سماجی پس منظر سے ہے اور وہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

(اس آرٹیکل کے لیے کچھ معلومات اے ایف پی سے لی گئیں ہیں)

فورم

XS
SM
MD
LG