رسائی کے لنکس

logo-print

غربت میں نام پیدا کرنے والا فن کار، عنایت حسین بھٹی


چناب کنارے آباد، سو ہنی کے شہر گجرات میں 12 جنوری کو ایک ایسی آواز نے جنم لیا جو نہ صرف منفرد تھی اور کئی عشروں تک مٹی کی خوشبو اور محبتوں کو ہر سو پھیلانے کا سبب بنی بلکہ لوک گیتوں کو ایک نئی جہت بھی عطا کی ۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کے معروف پلے بیک سنگر ، اداکار ، پروڈیوسر،ڈائریکٹر ،اسکرپٹ رائٹر ، سوشل ورکر، کالمسٹ اور پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے داعی ، عنایت حسین بھٹی تھے۔

عنایت حسین بھٹی کے خانوادے میں ان کے بعد بھی کئی افراد نے فن کی دنیا میں نام پیدا کیا ،جن میں ان کے بھائی کیفی ،سب سے چھوٹے بیٹے وسیم عباس ، آغا سکندر اور وسیم عباس کے بیٹے علی عباس اور آغا سکندر کے بیٹے آغا علی نمایاں ہیں ۔

معروف فلمی اور ٹی وی اداکار وسیم عباس نے اپنے والد کی یادوں کو وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے بانٹا، ان کا کہنا تھا۔

’’ مجھے اپنے والد کی جانب سے محنت ورثے میں ملی ہے میں نے اپنے والد کو سخت محنت کرتے دیکھا ہے وہ ایک ہی وقت میں کئی کئی محاذوں پر نبرد آزما رہے، اگرچہ جو مشکل وقت انہوں نے دیکھا وہ میں نے تو نہیں دیکھا لیکن محنت میں اپنی طرف سے کوئی کسر میں نے بھی اٹھا نہیں رکھی، میرے والد کسمپرسی میں لاھور آئے تھے اور اسی تنگدستی میں نام پیدا کیا۔‘‘

عنایت حسین بھٹی 1947 کے بعد پہلے پلے بیک سپر سٹار تھے ، ان کا کیریئر تقریباً ۵ عشروں پر محیط ہے جس میں انہوں نے کئی کام کیے،فن کی دنیا میں انہیں بجا طور پر ہمہ جہت شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف ہدائتکار سید نور نے عنایت حسین بھٹی کے ساتھ اپنی کئی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ایک بہترین آرٹسٹ کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی عمدہ شخصیت کا حامل بھی قرار دیا اور وسیم عباس کی طرح انہوں نے بھی بھٹی صاحب کی مسلسل اور سخت محنت کو خراج پیش کیا، ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان فلم انڈسٹری کے آغاز پر بات کی جائے گی تو بھٹی صاحب کی کوششوں کو ضرور سراہا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بیک وقت کئی آسمانوں اور کتنی ہی زمینوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھے، سید نور نے انہیں ایک ورسٹائل گلوکار ،اداکار اور ورسٹائل انسان قرار دیا۔

فن کی دنیا میں عنایت حسین بھٹی نے جو نقش چھوڑا ہے وہ یقیناً ایک لازوال کارنامہ ہے اور آنے والے دنوں میں اس کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی، گوناگوں صلاحیتوں کے مالک ایسے فنکار کم کم ہی پیدا ہوتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG