رسائی کے لنکس

'امسال کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی اور دراندازی کے واقعات زیادہ ہوئے'

  • سہیل انجم

فائل

ارون جیٹلی نے کہا ہےکہ بھارتی فوج نے ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر انسداد دراندازی کا ایک نظام قائم کیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ مہینوں میں دراندازی کے واقعات کو روکنے میں کامیابی ملی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگلی چوکیوں کو پہلے سے مضبوط بنا دیا گیا ہے، تاکہ فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم نقصان ہو

وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ امسال بھارت اور پاکستان کے مابین واقع کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی اور دراندازی کی کوششیں سب سے زیادہ ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے سرحد پار ہلاکتیں بھی بڑھی ہیں۔ انھوں نے الزام عاید کیا کہ ”پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دراندازوں کو داخل کرنے کی اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں“۔

جیٹلی نے لوک سبھا میں سوالوں کے جواب میں دعویٰ کیا کہ ”امسال یکم اگست تک پاکستانی فوج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کے 285 واقعات پیش آئے، جبکہ 2016 میں پورے سال ان واقعات کی تعداد 228 تھی“۔

انھوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال سیز فائر کی خلاف ورزی کی وجہ سے 8 فوجی جوان ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن، انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ 2017 میں اب تک کتنے جوان ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ”انٹرنیشنل بارڈر پر سیزفائر کی خلاف ورزی کے 221 واقعات ہوئے ہیں“۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں، انھوں نے کہا کہ فوج نے ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر انسداد دراندازی کا ایک نظام قائم کیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ مہینوں میں دراندازی کے واقعات کو روکنے میں کامیابی ملی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگلی چوکیوں کو پہلے سے مضبوط بنا دیا گیا ہے، تاکہ فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم نقصان ہو۔

دریں اثنا، وزیر مملکت برائے خارجہ جنرل وی کے سنگھ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ پاکستان اپنے کنٹرول والے کشمیر میں دریائے سندھ پر چین کی مدد سے 6 ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جس پر پاکستان اور چین کے سامنے احتجاج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھی اپنا علاقہ قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستان اسے آزاد کشمیر کہتا ہے۔ اس معاملے پر تاحال پاکستان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جہاں تک سیزفائر کی خلاف ورزی کے الزام کا تعلق ہے تو دونوں ملک وقتاً فوقتاً ایک دوسرے پر ایسا الزام عاید کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے اوپر عاید الزامات کی تردید بھی کرتے ہیں۔

پاکستان نے 20جولائی کو بھارت پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتے ہوئے، جس میں دو سویلین ہلاک ہوئے تھے، بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ساوتھ ایشیا اور سارک کے ڈائرکٹر جنرل نے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے 19 جولائی کو نکیال اور نیزہ پور سیکٹروں میں بھارت کی مبینہ بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ”تحمل برتنے کی اپیل کے باوجود بھارت سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی کرتا رہتا ہے“۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ”بھارتی افواج نے 20 جولائی تک ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر 594 مرتبہ سیزفائر کی خلاف ورزی کی ہے“۔ ڈائرکٹر جنرل نے بھارت سے اپیل کی کہ وہ 2003 سے نافذ سیزفائر کا احترام کرے۔

بھارت بھی پاکستان سے ایسی ہی اپیلیں کرتا رہتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG