رسائی کے لنکس

کنٹرول لائن پر گولہ باری کے خلاف مارچ اور احتجاجی دھرنا

  • روشن مغل

کشمیر کی خود مختاری کی حامی قوم پرست تنظیموں ’نیشنل عوامی پارٹی‘، ’لبرشن فرنٹ‘ اور ’نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن‘ کے حامیوں نے ایل او سی پر گولہ باری کے خلاف سرحدی قصبے ہجیرہ سے حد بندی لائن تتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف مارچ کیا

کشمیر کو تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن پر پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان ہونے والی گولہ باری اور فائرنگ کو رکوانے کے لیے قوم پرست کشمیری تنظیموں کی طرف سے جنگ بندی لائن کی طرف مارچ کیا گیا اور احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

کشمیر کی خود مختاری کی حامی قوم پرست تنظیموں ’نیشنل عوامی پارٹی‘، ’لبرشن فرنٹ‘ اور ’نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن‘ کے حامیوں نے ایل او سی پر گولہ باری کے خلاف سرحدی قصبے ہجیرہ سے حد بندی لائن تتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف مارچ کیا۔

مقامی پولیس کی طرف سے مظاہرین کو کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرکے روکنے کی کوشش کی گئی اور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو ایل او سی کراسنگ پوائنٹ کی طرف جانے سے روک دیا۔ تاہم، مظاہرین سواریوں سے اتر کر پیدل تتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جہاں انہوں نے رات نو بجے تک دھرنا دیا۔

مارچ میں شریک ’جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی‘ کے سربراہ، لیاقت حیات نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس مارچ اور دھرنے کا مقصد جنگ بندی لائن پر گولہ باری کا خاتمہ اور کشمیر کے دونوں اطراف سے فوجوں کا انخلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر پیدل سیز فائر لائن کی طرف مارچ کے ذریعے بھارتی کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کرنا ہے۔

دھرنے کے شرکاٴ سے خطاب کرتے ہوئے قوم پرست رہنماؤں نے کہا کہ فوجوں کی گولہ باری سے ایل او سی کے دونوں اطراف عام شہری مارے جا رہے ہیں؛ لوگوں کے گھر بار تباہ ہو رہے ہیں؛ اور یہ کہ گولہ باری بند کی جائے۔

قوم پرست تنظیموں کی طرف سے ایسے وقت کنٹرول لائن کی جانب مارچ کیا گیا جب پاکستان اور بھارت کی افواج گزشتہ کئی ماہ سے اس حد بندی لکیر پر گولہ باری کا تبادلہ کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں طرف فوجیوں کے علاوہ عام شہری بھی مارے جا رہے ہیں۔

واضع رہے کہ کشمیر کی خود مختاری کی حامی قوم پرست طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے 11 فروری 1990 کو چکوٹھی سے کنٹرول لائن کو بطور احتجاج عبور کیا گیا تھا۔ اس دوران، بھارتی فوج کی لائن عبور کرنے والوں پر فائرنگ سے کئی افراد مارے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG