رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں وزارت پیٹرولیم نے نئے سال کی آمد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا امکان ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نیا سال شروع ہونے سے چند ہی گھنٹے پہلے پیٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزراتِ پیٹرولیم کو ارسال کی جس میں پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 6 پیسے، مٹی کے تیل کے دام میں 13 روپے 58 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں 5 روپے 83 پیسے اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 49 پیسے اضافے کی تجویز دی گئی۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز منظور کرتے ہوئے قیمتوں میں رد و بدل کردیا ہے اور اب پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 6 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 81 روپے 53 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 96 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے اور اب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت89.91 روپےفی لیٹر ہوگی۔

لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 6 روپے 25 پیسے کے اضافہ کے ساتھ 58 روپے 37 پیسے مقرر کی گئی ہے، جب کہ مٹی کے تیل میں 6 روپے 79 پیسے اضافہ کرکے 64 روپے 30 پیسے کا کردیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی منظوری وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اوگرا کی سفارش پر دی۔ عالمی مارکیٹ میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس کے باوجود پاکستان میں بھارت، بنگلا دیش اور ترکی کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت کم ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق پیر یکم جنوری سے ہوگا۔

پاکستان میں ہر ماہ کے اختتام پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے مطابق نرخوں میں تبدیلی لاتی ہے۔

لیکن، ماضی میں عالمی منڈی میں جب تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو اس کا فائدہ عام عوام کو نہیں دیا گیا اور حکومت مہنگے داموں ہی تیل عوام کو بیچتی رہی۔ تاہم، اس معاملے پر عوامی تنقید اور سوشل میڈیا پر مہم کے بعد حکومت نے قیمتوں میں کمی کی تھی اور اب ایک بار پھر ان میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

سال 2017 میں حکومت نے چھ مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG