رسائی کے لنکس

logo-print

جلاوطن تبتیوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں


تبتیوں کے جلاوطن روحانی لیڈر دھرم شالہ میں غیرملکی سیاحوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

تبت پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تنزین لیکشے کہتے ہیں کہ کیا ہمیں اس مسئلے کو شائستہ طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے یا ہمیں ابتری کی قسم کے حالات کا سامنا کرنا چاہئے جو ہم نہیں چاہتے۔

تبت کے روحانی لیڈر دلائی لاما کے اپنے وطن سے فرار کے بعد سے اب جب بھارت میں تبتیوں کی جلاوطنی کو ساٹھ سال ہو گئے ہیں، انہیں تبت کے لیے مزید خود اختیاری کی چھ عشروں پر محیط اپنی جدو جہد میں ایک تعطل کا سامنا ہے ۔وائس آف امریکہ کی آنجنا پسریچہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ اب جب وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنی آئندہ کی جدو جہد کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے خدشات میں ایک بڑھتی ہوئی عمر کے دلائی لاما شامل ہیں۔

دھرم شالہ کی تنگ سڑکوں کی ایک دکان پر ایک آزاد تبت کو اجاگر کرنے والی ٹی شرٹس اور دوسری یاد گار چیزوں کی زبردست مانگ ہے۔

جب سے دلائی لاما نے بھارت کے اس شمالی قصبے کو اپنا گھر بنایا ہے، تبت کی جلاوطن انتظامیہ کے عہدے دار جدو جہد سے اس مسلسل وابستگی کو سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں ۔ تبت پالیسی انسٹی ٹیوٹ سینٹر کی تبتی انتظامیہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تنزین لیکشے کا کہنا ہے کہ اس ہم منصب کو دیکھیں، چین، ایک بڑا چین، گزشتہ ساٹھ برسوں میں اگرچہ ہم مجموعی طور پر چھ ملین تبتی ہیں اور اگرچہ صرف ایک لاکھ تبتی جلاوطن ہیں تاہم یہ جدو جہد جاری ہے۔

لیکن چین سے مزید خود اختیار ی، میں پیش رفت کے فقدان پر، تشویش بڑھ رہی ہے ۔ 2010 میں جب سے دلائی لاما کے سفیر اور چینیوں کے درمیان آخری ملاقات ایک تعطل پر ختم ہو ئی تھی، اس کے بعد سے بیجنگ سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔

چین دلائی لاما کو ایک علیحدگی پسند قرار دیتا ہے جو تبت کو ان کے کنٹرول سے دور لے جانا چاہتا ہے، یہ وہ دعویٰ ہے جس کی تبتی عہدے دار مسلسل ترديد کرتے ہیں۔ جلاوطن انتظامیہ کے ترجمان سونام داگپو کہتے ہیں کہ اگر چینی حکومت گفت وشنید کے لیے تیار ہے یا وہ تبتی مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو ہم آزادی یا چین سے علیحدگی کے خواہاں نہیں ہیں۔

اب جب کہ تعطل برقرار ہے، اس بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ تبتی جدو جہد آئندہ برسوں میں کیا شکل اختیار کرے گی۔ دلائی لاما اس ماہ کے شروع میں 83 سال کے ہو گئے ہیں۔ اگرچہ وہ کسی سیاسی کردار سے دستبردار ہو گئے ہیں تاہم وہ بدستور ایک اہم شخصیت ہیں اور انہوں نے جدو جہد کو سختی سے غیر متشدد رکھا ہے۔ تبت پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تنزین لیکشے کہتے ہیں کہ کیا ہمیں اس مسئلے کو شائستہ طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے یا ہمیں ابتری کی قسم کے حالات کا سامنا کرنا چاہئے جو ہم نہیں چاہتے ۔ ہم نرم قسم کی منتقلیاں چاہتے ہیں جہاں ہر ایک صرف اس پر مرکوز رہے کہ اس جدو جہد کو کیسے برقرار رکھا جائے لیکن تبت کے مسئلے کو بھی حل کیا جائے۔

تاہم اب جب چین مزید مضبوط ہوگیا ہے، اس قصبے میں اٹھنے والے آزاد تبت کے مطالبے بین الاقوامی ایوانوں میں نہیں گونجتے۔

دھرم شالہ کی سڑکوں پر بہت سے لوگ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ جدو جہد ایک نازک دور سے گزر رہی ہے لیکن وہ ناامید نہیں ہیں۔

تنزین کا کہنا ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم امید کا دامن کھو چکے ہیں اور میرے بہت سے بھارتی دوست مجھے کہتے تھے کہ تبت اب ایک ایسا نصب العین ہے جو اب ختم ہو چکا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ جب تک ہم جدو جہد کرتے رہیں گے یہ نصب العین ختم نہیں ہو گا۔

یہ إحساس جلا وطن تبتیوں میں عام ہے جن کا خیال ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ اپنے وطن لوٹ سکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG