رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی وبا کی پابندیوں میں دارالحکومت واشنگٹن میں یوم آزادی کی تقریبات


یوم آزادی کی تقریبات
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:15 0:00

یوم آزادی کی تقریبات

ہفتے کی رات کو امریکی دارالحکومت میں آزادی کی تقریبات اپنے عروج پر تھیں۔ صدر کے خطاب کے علاوہ فضائی مظاہرے اور آتش بازی کے مظاہروں اور قومی نغموں کے ساتھ رنگارنگ تقریبات رات تک جاری رہیں۔

وائٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں حاضرین کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے قوم کو آزادی کی مبارکباد دی اور ملک کو درپیش مختلف مسائل کا ذکر کیا۔

انہوں نے خاص طور سے انقلابی بائیں دھڑے کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ان کو ہم شکست دیں گے۔ فساد پھیلانے والوں، لوٹ مار کرنے والوں اور انارکسٹس کو یہ پتہ نہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ ہم بے قابو اور مشتعل ہجوموں کو اپنے تاریخی مجسمے اور تاریخ کو منسخ کرنے اور بچوں کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم امریکی طرز زندگی کا تحفظ کریں گے اور اسے قائم رکھیں گے۔

حزب مخالف ڈیموکریٹ پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے امریکی یوم آزادی کے موقع پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہماری قوم کی بنیاد ایک سادہ سے اصول پر قائم ہے کہ ہم سب کو مساوی پیدا کیا گیا۔ ہم کبھی اس پر پورے نہیں اترے، مگر ہم اس کے حصول کی کوشش جاری رکھیں گے۔ آج آزادی کے دن ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ صرف الفاظ کی حد تک ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی مساوات قائم کریں گے۔

واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال پر لوگوں کا ہجوم یوم آزادی کی تقریبات دیکھنے کے لیے امنڈ آیا تھا، جب کہ شہر کی انتظامیہ نے کرونا وائرس کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

شہر کی بڑی بڑی سڑکیں اور تقریب کے مرکزی مقام سے قریب جگہوں پر ہزاروں لوگ جمع تھے۔ ان میں وہ گروپ بھی تھے جو امریکہ میں نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور پولیس اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے اندر سینکڑوں مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ جنوبی حصے کے میدان کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ مہمانوں میں ڈاکٹرز، نرسیں، قانون نافذ کرنے والے اہل کار اور فوجی افسران شامل تھے۔

وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں کرونا وبا کے خلاف جنگ کرنے والے صف اول کے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرنا مقصود تھا۔ وزیر داخلہ ڈیوڈ برن ہارٹ نے بتایا کہ آتش بازی کا دائرہ ایک میل پر محیط تھا اور اسے حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ کہا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کی میئر باوزر نے اس تقریب کے انعقاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحت کی طے شدہ گائیڈ لائن کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ وزارت داخلہ نے اس کا اہتمام کیا ہے اور ہم نے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا۔

میئر باوزر نے کہا کہ تقریبات وفاقی علاقوں میں ہوئی، جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ آزادی کی تقریبات مناتے ہوئے وہ بڑے مجمعے میں جانے سے گریز کریں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کا ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ وائرس چین سے آیا اور چین کو اس کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔

کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ کے بہت سے شہروں میں یوم آزادی تقریبات منسوخ کر دی گئیں یا انہیں سادگی سے منایا گیا۔

اس سال آتش بازی کی فروخت کافی زیادہ ہو، جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے اپنے مکانوں کے سامنے یا عقب میں آتش بازی سے لطف اٹھایا اور یوم آزادی منایا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG