رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: آسام میں 32 مسلمانوں کی ہلاکت کے بعد گرفتاریاں


سرحدی علاقوں کے وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم ازکم آٹھ خواتین اور اتنی ہی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔

بھارت میں پولیس نے علیحدگی پسندوں کی طرف سے گھروں کو نذر آتش اور قتل عام میں کم ازکم 32 بنگالی مسلمانوں کی ہلاکت کے بعد کم 22 افراد ہو حراست میں لیا ہے۔

حکام نے اسے شمال مشرقی ریاست آسام میں گزشتہ دو سالوں میں ہونے والا یہ بدترین نسلی تشدد بیان کیا ہے۔

یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب حکام نے بودو قبیلے کے مبینہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے قتل و غارت گری کے بعد آسام میں فوج طلب کی اور کرفیو نافذ کیا۔

یہ قبیلہ ایک عرصے سے الزام عائد کرتا آیا ہے کہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر مسلمان بھارت کے اس حصے میں آکر آباد ہو رہے ہیں اور یہ لوگ زمینوں پر ناجائز قبضے میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

سرحدی علاقوں کے وزیر مملکت صدیق احمد کا کہنا ہے کہ انھوں نے تشدد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ ان کے مطابق مرنے والوں میں کم ازکم آٹھ خواتین اور اتنی ہی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ"یہاں تک یہ دو سال کا ایسا بچہ جو ابھی مشکل سے چل سکتا تھا اسے بھی گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ میں نے ایسا منظر اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔"

علاقے میں پولیس کے سربراہ کے مطابق گرفتار کیے گئے 22 افراد میں وہ لوگ شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انھوں نے گھروں کو نذر آتش کیا یا عسکریت پسندوں کو پناہ دی۔ انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ باغیوں کا تعلق نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بودولینڈ سے ہے اور کہ دہائیوں سے بودو نسل کے لوگوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے لیے مسلح کارروائیاں کرتے آرہے ہیں۔

تاہم اس باغی گروپ نے ہفتے کو ذرائع ابلاغ کو بھیجی گئی ای میل میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان ہلاکتوں کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہے۔

تشدد کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب بھارت میں عام انتخابات کے آخری مرحلے ہونے جارہے ہیں اور اس دوران ملک بھر خصوصاً گڑ بڑ والے علاقوں میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG