رسائی کے لنکس

بُلند شہر کا تشدد سازش کا نتیجہ، گائے کی باقیات پرانی تھیں: پولیس


رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’گائے کی وہ باقیات جن کو بنیاد بنا کر ہنگامہ کیا گیا، 48 گھنٹے پرانی تھیں‘‘

اتر پردیش پولیس کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، بُلند شہر میں پیر کے روز ہونے والا تشدد، جس میں ایک پولیس انسپیکٹر اور ایک نوجوان کی ہلاکت ہوئی، ’’ایک بڑی اور منصوبہ بند سازش کا حصہ‘‘ معلوم ہوتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’گائے کی وہ باقیات جن کو بنیاد بنا کر ہنگامہ کیا گیا، 48 گھنٹے پرانی تھیں‘‘۔

ریاست کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل انٹلی جنس، ایس بی شروڈکر کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، ’’ایسا لگتا ہے کہ گائے اس جگہ ذبح نہیں کی گئی تھی جس کا دعویٰ کیا گیا اور جس کی نشاندہی پولیس میں رپورٹ لکھانے والے بجرنگ دل کے ضلع صدر یوگیش راج نے کی تھی‘‘۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے گائے ذبح ہوتے ہوئے دیکھی تھی۔

پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قتل میں وہ کلیدی ملزم ہے اور اب بھی پولیس کی گرفت سے دور ہے۔

رپورٹ سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ ’’پُرتشدد بھیڑ تین روزہ اجتماع میں شریک مسلمانوں کو ہدف بنانا چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود اس نے اس ہائی وے کو بند کیے رکھا جس سے اجتماع کے شرکا لوٹ رہے تھے‘‘۔

اجتماع کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ اس میں کم از کم دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔

پولیس رپورٹ ریاستی پولیس سربراہ اور ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو سونپ دی گئی ہے۔

دریں اثنا، انسپیکٹر کے قتل میں ایک فوجی جوان کا نام سامنے آیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ سری نگر میں تعینات جیتو فوجی نے ہی تو گولی نہیں چلائی تھی۔ دو ٹیمیں اس کا پتا لگانے کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر روانہ کی گئی ہیں۔

جیتو کے اہل خانہ کے مطابق، تشدد کے وقت وہ وہاں موجود تھا اور بعد میں کارگل چلا گیا۔ جبکہ اس کے یونٹ کا کہنا ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ جیتو کہاں ہے۔

دریں اثنا، وزیر اعلیٰ نے جمعہ کے روز انسپیکٹر سبودھ کمار کے قتل کو ایک حادثہ قرار دیا۔ انھوں نے پولیس کو ہدایت دے رکھی ہے کہ گو کشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ایک سینئر تجزیہ کار پروفیسر اپوروانند نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کا شروع سے ہی جو رویہ رہا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ اس کی ترجیح میں نہ تو انسپیکٹر کا قتل شامل ہے اور نہ ہی سازش کے تحت تشدد۔ ایسا سنا جا رہا ہے کہ اسے ایک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پہلے بھی اس قسم کے واقعات کو حادثہ قرار دیا گیا تھا۔ اس بار بھی ایسا کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ملزموں کو بچانا ہے جن کا تعلق وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل وغیرہ سے ہے۔

پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں 90 افراد کے خلاف کارروائی کی ہے جن میں 28 نامزد ہیں۔

بی جے پی کی یوتھ شاخ، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں پر تشدد برپا کرنے اور انسپیکٹر کے قتل کا الزام ہے۔ گرفتار شدگان کا تعلق بھی انھی تنظیموں سے ہے۔

ایک ملزم او ربجرنگ دل کے لیڈر نے کسی خفیہ مقام سے ایک ویڈیو جاری کرکے انسپیکٹر پر مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہندووں کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ادھر گو کشی کے الزام میں کئی مسلمانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ریاست کے آئی جی کرائم ایس کے بھگت کا کہنا ہے کہ جانچ جاری ہے۔ اس کے مکمل ہونے کے بعد ہی صورت حال واضح ہوگی۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG