رسائی کے لنکس

بھارت میں دس سالہ بچی کے ہاں بیٹی کی پیدائش


بھارت میں سکول کے طالب علم بچوں پر جنسی حملے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

حالیہ برسوں میں بھارتی عدالتوں میں دائر کی جانے والی ایسی درخواستوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں 20 ہفتے کے حمل کے بعد اسے گرانے کی استدعا کی گئی ہوتی ہے۔

بھارت میں ایک 10 سالہ لڑکی نے، جس پر متعدد بار جنسی حملے ہوئے تھے، ایک بچی کو جنم دیا ہے۔

بچی کا وزن ڈھائی کلو ہے اور وہ جمعرات کے روز چندی گڑھ میں سرجری کے ذریعے پیدا ہوئی۔

ایک ماہ قبل سپریم کورٹ نے اس میڈیکل رپورٹ کے بعد کہ اسقاط حمل، لڑکی اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، حمل گرانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

بھارتی قانون کے مطابق حمل کے آخری ہفتوں میں اسے گرانا خلاف قانون ہے۔

لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے چچا نے کئی مہینوں تک اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ اب پولیس کی حراست میں ہے۔

اس جرم کا اس وقت پتا چلا جب لڑکی کو پیٹ میں درد کی شکایت پر اس کے والدین اسپتال لے کر گئے۔ جب ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو پتا چلا کہ وہ 30 ہفتوں کے حمل سے تھی۔

لڑکی کو حمل کے بارے میں نہیں بتایا گیا بلکہ اسے یہ کہا گیا کہ اس کے پیٹ میں ایک بڑی رسولی ہے جس کے لیے آپریشن کرانا پڑے گا۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ نو زائیدہ بچی کسی ایسے جوڑے کو دے دی جائے گی جو اسے ماں باپ کی طرح پالنے کی خواہش رکھتے ہوں۔

ڈاکٹر ہریش نے میڈیا کو بتا کہ یہ ایک خطرناک سرجری تھی، لیکن سب کچھ درست انداز میں ہوا۔ زچہ اور بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا بھارت کا ریکارڈ انتہائی افسوس ناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2015 میں بھارت میں بچوں پر جنسی حملوں کے 20 ہزار سے زیادہ واقعات ہوئے تھے۔

بچوں کے حقوق کے ادارے’ سیو دی چلڈرن‘ کی بھارتی شاخ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں پر جنسی حملوں کے تقریبا95 فی صد واقعات میں وہ لوگ ملوث تھے، جن کا بچوں سے پہلے سے میل ملاپ تھا اور وہ ان کے لیے اجنبی نہیں تھے۔ جب کہ 35 فی صد واقعات میں ہوس کا نشانہ بنانے والے ان کے پڑوسی تھے۔

بھارتی آئین حمل کے پہلے 20 ہفتوں کے دوران اسقاط کی اجازت دیتا ہے، اور اس کے بعد حمل گرانے کے لیے ڈاکٹر کی جانب سے یہ تصدیق ضروری ہوتی ہے کہ اس کے جاری رہنے سے ماں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

حالیہ برسوں میں بھارتی عدالتوں میں دائر کی جانے والی ایسی درخواستوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں 20 ہفتے کے حمل کے بعد اسے گرانے کی استدعا کی گئی ہوتی ہے۔

ایسی درخواستیں زیادہ تر ایسی کم عمر لڑکیوں کی جانب سے دائر کی جاتیں ہیں جنہیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے اندر کیا پل رہا ہے یا وہ اس چیز سے آشنا ہی نہیں ہوتیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG