رسائی کے لنکس

متنازع شہریت بل کے خلاف مسلم خواتین مظاہروں میں شامل ہو گئیں


نئی دہلی میں مسلم خواتین متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

بھارت میں شہریت کے اس نئے متنازعہ قانون کے خلاف، جسے نقاد مسلم مخالف قانون کہتے ہیں، ریلیوں میں شرکت کرنے والے مظاہرین میں وہ ہزاروں طالبات اور قدامت پسند مسلمان خواتین شامل ہیں جو کبھی کبھار ہی عوامی مقامات پر سامنے آتی ہیں۔

اس قانون میں مسلمانوں کو ان چھ مذہبی گروپس سے خارج کر دیا گیا ہے جو پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں تشدد سے فرار ہو کر بھارت آنے کی صورت میں شہریت حاصل کر سکیں۔ بھارتی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والے مظاہروں میں خواتین پیش پیش رہی ہیں۔

فوزیہ نئی دہلی میں طالب علم مظاہرین کے اس جم غفیر میں شامل تھیں جو حکومت سے اس نئے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس قانون میں پڑوسی ملکوں میں تشدد کی شکار اقلیتوں کو شہریت دینے کے لیے مذہب کو ایک معیار کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

فوزیہ کہتی ہیں کہ بھارت تمام عقائد کے لوگوں کو قبول کرے گا سوائے مسلمانوں کے۔ اس سے عدم مساوات پیدا ہو رہی ہے۔ حکومت ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہر آزادی کے نعرے لگانے والی کچھ خواتین میڈیا کیمروں کے سامنے نہیں آتیں یا نام ظاہر نہیں کرتیں۔ ان مظاہروں میں خواتین خانہ، مائیں، نوجوان اور معمر خواتین، طالب علموٕ ں کے ساتھ شامل ہو چکی ہیں۔

یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ بھارت میں مسلمانوں نے کبھی بھی مظاہروں کی قیادت نہیں کی، اور مسلم خواتین کی اکثریت عوامی مقامات سے دور رہتی ہے۔

اب ان کی تعداد ان خدشات کے دوران مسلسل بڑھ رہی ہے کہ نیا قانون مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا دے گا۔ حکومت اس قانون کو ایک ہمدردانہ اقدام قرار دے کر اس کا دفاع کر رہی ہے۔

لیکن مظاہروں کو دبانے کی اس کی کوششوں نے اشتعال کو مزید ہوا دی ہے۔ ربیعہ کا بیٹا ان مظاہرین میں شامل تھا جو گزشتہ ہفتے اس وقت زخمی ہوئے تھے، جب پولیس یونیورسٹی کی لائبریری میں داخل ہوئی تھی۔

اس کا کہنا تھا کہ ہم میں سے وہ جو یہ حجابی لباس پہنتے ہیں، کبھی کبھار ہی اپنے گھروں سے باہر آتے ہیں۔ لیکن صورت حال اب ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں باہر آئی ہوں۔ جب تک وہ اس بل کو ختم نہیں کرتے، میں باہر آ کر احتجاج کرتی رہوں گی۔

مظاہرین یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت شہریوں کی رجسٹریشن کے اس منصوبے کو منسوخ کرے جو تمام بھارتیوں سے اپنی قومیت کا ثبوت فراہم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کہ بھارتی مسلمان اپنی شہریت سے محروم نہیں ہوں گے، ان خدشات کو ختم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انڈر گریجوایٹ اسٹوڈنٹ ذکیرہ روحی نے کہا کہ اول تو یہ کہ ہمارے لئے اپنی شہریت ثابت کرنا کیوں ضروری ہے۔ ہمارے آبا و اجداد اس ملک کے لیے لڑے ہیں۔

مظاہرین کے ساتھ بہت سے غیر مسلم بھی شامل ہو گئے ہیں، جنہیں ڈر ہے کہ یہ قانون متنوع معاشرے کی بھارتی روایت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ایک طالبہ پلورا کا کہنا تھا کہ میں ایک ہندو ہوں۔ لیکن یہ بل مجھے متاثر کر رہا ہے کیوںکہ میرے ساتھی شہری اور میرے ساتھی طالب علم اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ میں اپنے پورے ڈیڑھ سال کے تعلیمی عرصے میں میں اپنے مسلم دوستوں کے ساتھ رہی ہوں۔ میں نے ان کے ساتھ مل کر لنچ کیا ہے، میں عید پر ان کے گھر گئی ہوں اور میں نے ان کے تہواروں کی خوشی منائی ہے۔

یہ مظاہرے جاری رہتے ہیں یا نہیں۔ لیکن مسلمانوں اور نریندر مودی کے نقادوں کے ان خدشات کو اجاگر کرتے ہیں کہ ان کی حکومت ہندو قوم پرست ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG