رسائی کے لنکس

logo-print

قرنطینہ مرکز سے 70 افراد فرار، کھانا نہ ملنے کی شکایت


قرنطینہ میں رکھا گیا ایک شخص

بھارت کی ریاست بہار کے ضلع نوادا میں کرونا وائرس کے لیے قائم کیے جانے والے ایک قرنطینہ مرکز سے 70 کے لگ بھگ افراد فرار ہو گئے۔ اس مرکز میں ان لوگوں کو رکھا جا رہا تھا جن کے بارے میں کرونا انفکشن سے متاثرہ ہونے کا شبہ تھا۔

مرکز سے بھاگنے والوں نے الزام لگایا ہے کہ وہاں کھانے پینے کا انتظام بہت ناقص تھا اور انہیں ضرورت کے مطابق کھانے پینے کو نہیں مل رہا تھا۔

ایک مقامی ٹیلی وژن چینل نے ہفتے کے روز ایک فوٹیج نشر کی جس میں قرنطینہ میں رکھے جانے والے افراد کو اپنا سامان اٹھائے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

نوادا ڈسٹرکٹ کے سردالا بلاک کے آدرش انٹرسکول میں تقریباً 150 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ یہ قصبہ ریاست کے صدر مقام پٹنہ سے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یشپال مینا نے بتایا ہے کہ دوسرے علاقوں سے روزگار کے لیے آئے ہوئے پچاس کے لگ بھگ افراد قرنطینہ مرکز چھوڑ کر اس وقت بھاگ گئے جب انہیں پتا چلا کہ مرکز کے ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 15 کے لگ بھگ افراد کو پکڑ کر دوبارہ قرنطینہ مرکز پہنچا دیا گیا ہے۔

بھارت میں حالیہ دنوں میں اس کے بعد سے کرونا انفکشن کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

اس نرمی کا ایک اور مقصد دیہاتوں اور بستیوں سے شہروں میں جا کر کام کرنے والے مزدوروں اور کارکنوں کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔

حکومت نے بستیوں اور دوسرے علاقوں سے بڑے شہروں میں روزگار کے لیے آنے والوں کو 14 روز تک قرنطینہ میں رکھنے کے بعد گھر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے لیے خصوصی ریل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔

بھارت میں اس وقت کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 62 ہزار سے زیادہ ہے جب کہ 2100 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG