رسائی کے لنکس

logo-print

مودی حکومت کی دوسری مدت کا پہلا بجٹ ، سماجی ترقی پر توجہ


بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن مودی حکومت کی دوسری مدت کا پہلا بجٹ پیش کرنے پارلیمنٹ میں آ رہی ہیں۔ 5 جولائی 2019

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مودی حکومت کی دوسری مدت کا پہلا عام بجٹ آج پیش کیا۔ انھوں نے غریب اور اور محروم طبقات کی ترقی کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں اور رواں مالی سال میں ملکی معیشت کو تین کھرب ڈالر اور 2025 تک پانچ کھرب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا۔

انھوں نے جہاں اپنے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے فروغ، ملکی معیشت کو پانچ کھرب ڈالر تک لے جانے، کسانوں اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود، آبی تحفظ اور رابطہ سازی یعنی کنکٹی وٹی پر توجہ دی، وہیں دفاعی اخراجات کے متعلق تفصیلات نہیں دیں​۔

یکم فروری کو پیش کیے جانے والے عبوری بجٹ میں وزارت دفاع کے لیے 60.90 بلین ڈالر مختص کیے گئے تھے جس میں سے 42.7 بلین ڈالر دفاعی بجٹ کے لیے رکھے گئے تھے۔

سیتا رمن نے اپنی تقریر میں کہا کہ دفاعی شعبے کو جلد از جلد ماڈرن اور اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے اس لیے حکومت نے دفاعی آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے بقول یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے اور اسے قومی ترجیح حاصل ہے۔

یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات عموماً کشیدہ رہتے ہیں اور دونوں ملک عام طور پر اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ کشیدگی کے پیش نظر بہت سے تجزیہ کاروں کی نظریں دفاعی تجاویز پر مرکوز تھیں۔

سیتا رمن نے اپنے بجٹ میں 2022 تک ہر گھر میں کھانا پکانے کی گیس اور 2024 تک پینے کا صاف پانی اور بجلی پہنچانے کا وعدہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ گاؤں، غریب اور کسان ہماری پالیسیوں کے مرکز میں ہیں۔

انھوں نے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس اور سونے کی درآمد پر محصول میں اضافہ اور امیروں پر بوجھ ڈالتے ہوئے بینکوں سے بڑی رقوم نکالنے پر ٹیکس عائد کر دیا۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کسانوں، غریبوں اور محروم طبقات کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کافی احتجاج کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کے پیش نظر ہی حکومت نے اپنی توجہ ان طبقات پر مرکوز کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بجٹ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ 21 ویں صدی کے بھارت کی امنگوں کو پورا کرنے اور نئے بھارت کی تعمیر میں ایک اہم کڑی ثابت ہو گا۔

ایک سینئر تجزیہ کار رئیس احمد لالی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ درمیانے طبقے کو چھیڑا نہیں گیا۔ امیروں پر ٹیکس بڑھایا گیا اور غریبوں کو راحت دے کر اپنی جانب لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے بقول چونکہ یہ محروم طبقہ حکومت سے ناراض تھا اس لیے اسے خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کانگریس نے بجٹ کو امیر نواز اور غریب مخالف قرار دیا۔ جب کہ مارکیٹ نے اظہار مایوسی کیا۔

بجٹ تقریر کے بعد بازار میں مندی آ گئی اور سنسکس میں 591 پوائنٹ کی گراوٹ آئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG