رسائی کے لنکس

بھارت میں پراسرار بیماری: مریضوں کے خون سے نِکل اور سیسے کے ذرات برآمد


فائل فوٹو

بھارتی حکام نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی پراسرار بیماری کے شکار مریضوں کے خون کے نمونوں سے نِکل اور سیسے کے ذرات برآمد ہوئے ہیں۔ مذکورہ بیماری کے باعث ریاست آندھرا پردیش میں سیکڑوں مریض اسپتال پہنچ گئے تھے۔

چند روز قبل پراسرار بیماری کے انکشاف کے بعد دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) سے وابستہ چوٹی کے طبی ماہرین اس بیماری کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں جس سے اب تک ایک ہلاکت جب کہ 400 کے لگ بھگ لوگ بیمار ہو چکے ہیں۔

آندھرا پردیش کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ٹیم کو مریضوں کے خون کے نموںوں سے سیسہ اور نِکل کے ذرات ملے ہیں۔

اے آئی آئی ایم ایس کے علاوہ ایک اور اسپتال میں خون کے نمونوں کو ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

بیماری سے اب تک 300 سے زائد بچے متاثر ہو چکے ہیں۔ ان بچوں میں سے زیادہ تر کو چکر آنے، بے ہوش ہونے، سر میں درد اور متلی کی شکایت ہے جب کہ ان کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق خون میں سیسے کی زیادتی دماغ، اعصابی نظام، دل اور پھیپھڑوں کی نشوونما کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔

اس سے قبل ریاست سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ جی وی ایل نرسیما راؤ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ان کی سرکاری طبی ماہرین سے بات ہوئی ہے۔ اُن کے بقول بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ جراثیم کش مادے 'آرگینکلورین' کی وجہ سے ہے۔ ​

'آرگینکلورین' جراثیم کش کیمیائی مادوں پر مشتمل ایک مرکب ہے جو فصلوں میں کیڑے مار ادویات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس حوالے سے آندھرا پردیش کی پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر گیتا پراسادنی کا کہنا ہے کہ 'آرگینکلورین' ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم مزید ٹیسٹ رپورٹس کے بعد ہی حتمی وجہ کا تعین ہو سکے گا۔

گیتا نے مزید بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تاہم ویک اینڈ پر 45 سالہ ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں 'آرگینکلورین' پر پابندی ​ہے اور اس کا استعمال سختی کے ساتھ ممنوع ہے۔ پابندی کی بنیادی وجہ 'آرگینکلورین' کے باعث کینسر اور صحت کو لاحق دیگر خطرات ہیں۔ ​

ماہرین کے مطابق 'آرگینکلورین' ​ کے ذرات سالوں تک فضا میں موجود رہتے ہیں اور جانوروں و انسانی جسم میں پائی جانے والی چربی میں ان کی افزائش جاری رہتی ہے۔

امریکی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کیڑے مار ادویات میں 'آرگینکلورین' ​ کی موجودگی کے اثرات سے انسانوں کو عارضی طور پر بہت سی شکایات ہو سکتی ہیں۔ جن میں دورے پڑنا، سر میں درد ہونا، چکر آنا، متلی، قے، پٹھوں کی کمزوری وغیرہ شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG