رسائی کے لنکس

logo-print

چکوال میں گائیں کیوں مر رہی ہیں؟


فائل فوٹو

پنجاب کا ضلع چکوال اچھی نسل کے بیل اور گھوڑوں کی وجہ سے مشہور ہے جہاں کے بیشتر افراد کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مال مویشی ہے۔

اختر حسين گزشتہ کئی نسلوں سے کھيتی باڑی اور مال مويشی پالنے سے وابستہ ہيں۔ ان کی کُل جمع پونجی مختصر اراضی اور چند گائيں تھيں لیکن گزشتہ تيں ہفتوں کے دوران ان کے کئی جانور پر اسرار بیماری کے باعث ایک ایک کر کے مر گئے ہیں۔

گزشتہ سال بھی چکوال کے نواحی علاقے لکھوال میں پر اسرار طور پر متعدد جانور ہلاک ہوگئے تھے اور اس سال اختر حسین نامی شخص کی تین گائیں پر اسرار بیماری کا شکار ہو کر ہلاک ہوچکی ہیں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے اختر حسين نے بتايا کہ انہوں نے اپنی 77 سالہ زندگی ميں کبھی ایسا وقت نہیں دیکھا کہ چند دنوں ميں وہ لاکھوں روپے سے محروم ہو گئے ہوں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ يہ سب کچھ اتنا اچانک کيسے ہو گيا۔

اختر حسین بتاتے ہیں کہ صرف لکھوال گاؤں کی 30 کے قريب گائيں دم توڑ چکی ہيں۔ "ہم نے ہر طرح کے جتن کیے۔ ڈاکٹر کو بلايا۔ گائیوں کے خون، گوبر، پانی اور حتٰی کہ گوشت تک کے نمونے لیے گئے ليکن تا حال اس پُراسرار مرض کا کچھ پتا نہیں چلا ہے۔"

يہ قصہ صرف چکوال کے لکھوال گاؤں تک محدود نہیں۔ مہر احسان کا تعلق مٹن کلاں سے ہے حن کے پاس پانچ گائيں ہيں۔ اس سال تو اب تک پُراسرار بيماری نے اُن کے گھر کا رخ نہی کيا تاہم وہ بتاتے ہيں کہ پچھلے سال ان کی دو گائيں ہلاک ہوئی تھيں۔

مہر احسان کے مطابق گاؤں ميں اکثر لوگ غريب ہيں اور مال مويشی ہی اُن کا کُل اثاثہ ہے۔ ايسے ميں اس طرز کی مہلک بيمارياں کسانوں کی پريشانياں دگنی کر ديتی ہيں۔

مہر احسان کے مطابق اس بيماری کو کچھ لوگ نائٹريٹ زہر کہتے ہيں اور يہ صرف اس گائے پر اثر انداز ہوتی ہے جو يا سُو جاتی ہوں يا سُونے کے نزديک ہوں۔ باقی بچھڑے وغيرہ کو اس بيماری سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ضلع چکوال کے لائیو اسٹاک اور ڈيری ترقياتی ڈيپارٹمنٹ کے تحقيقاتی افسر ڈاکٹر الطاف محمود کے مطابق انُ کی تحقيق کے مطابق گائیوں کی ہلاکتیں جنگل ميں پائے جانے والی پارتھينيم نامی جڑی بوٹی کی وجہ سے ہوئيں۔

ڈاکٹر الطاف کے مطابق کسی بھی چارے ميں نائٹريٹ کی مقدار 1500 پارٹ پر ملين ہونی چاہیے۔ ليکن جہاں ان دیہات کی گائيں چرتی ہيں وہاں بعض جڑی بوٹيوں ميں نائٹريٹ کی مقدار 3000 سے 5000 پارٹ پر ملين سے بھی تجاوز کر جاتی ہے جس سے مويشيوں کی ہلاکت ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزيد بتايا کہ جو جانور گھر سے باہر چرنے کے لیے نہیں لے جائے جاتے انہیں بیماری نہیں لگتی۔

ڈاکٹر الطاف نے ضلع کے باسيوں پر زور ديا کہ وہ اپنے مال مويشيوں کو صرف جنگل کی ہی خوراک پر نہ چھوڑيں بلکہ گھر ميں بھی اضافی چارہ ديں۔ اس صورت ميں اگر کسی جانور نے اضافی نائيٹريٹ کھا بھی لی ہو تو گھر کے چارے سے اس کا اثر زائل ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG