رسائی کے لنکس

logo-print

'1977 کے مارشل لا کی وجہ پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے اختلافات تھے'


تجزیہ کاروں کے مطابق 1977 میں مارشل لا لگنے کی بنیادی وجہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات تھے۔ میجر جنرل ضیا الحق نے آرمی چیف بننے کے لیے، لاڑکانہ میں بھٹو کے والد کی قبر پر جا کر فاتحہ پڑھی اور جھاڑو بھی لگائی۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 5 جولائی 1977 وہ دن ہے جب فوجی بغاوت مارشل لا کے نفاذ کا سبب بنی تھی۔

عام انتخابات کے ذریعے اگرچہ منتخب ہونے والی پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹے 43 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کو مارشل لا کے ذریعے ہٹائے جانے کے اثرات سیاسی نظام پر اثر انداز ہوتے نظر آتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ 1977 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اس قدر پُر زور تھی کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق کو مارشل لا لگانا پڑا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ تحریک جب 'نظامِ مصطفیٰ تحریک' میں بدلی اور فوجی جوانوں نے مظاہرین پر گولیاں برسانے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔ تو اس صورتِ حال میں ضیا الحق کے پاس مارشل لا لگانے کے علاوہ کوئی اور حل نہیں تھا۔

مارشل لا لگنے کی وجوہات

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حسین نقی کا کہنا ہے کہ 1977 کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو پر مبینہ دھاندلی کے الزامات لگائے گئے جب کہ بھٹو حکومت کے خلاف سیاسی و مذہبی جماعتوں کا 'پاکستان نیشنل الائنس' (پی این اے) بنا۔ جسے ضیا الحق نے بھٹو حکومت کے خلاف استعمال کیا۔

صحافی افتخار احمد کا کہنا ہے کہ 1977 میں مارشل لا لگنے کی بنیادی وجہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات تھے۔

ان کے بقول فوج کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں چلانے سے انکار کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب کا کہنا ہے کہ دھاندلی کے الزامات سے شروع ہونے والی پی این اے کی تحریک اتنی بے قابو ہو گئی کہ لاہور میں مارشل لا لگانا پڑا۔ اس کے بعد پی این اے نے جب نظامِ مصطفی کا نعرہ لگایا تو یہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے ہٹ کر دینی مسئلہ بھی بن گیا۔

ان کے بقول لاہور شہر کے لوگوں نے اس تحریک میں جانیں دینا اپنا فرض سمجھا۔

امجد شعیب کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی پوسٹنگ لاہور میں تھی۔ فوجی جوانوں کے احکامات ماننے سے انکار کے بعد صورتِ حال یہ ہو گئی تھی کہ بریگیڈ کمانڈرز نے مستعفی ہونا شروع کر دیا۔

امجد شعیب کہتے ہیں کہ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے جنرل ضیا الحق اسی رات مستعفی ہونے والے بریگیڈیئرز کو قائل کرنے لاہور ہیڈکوارٹرز پہنچے۔ تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے اور ایک طرح کی بغاوت ہو گئی جس کے سبب ضیا الحق کو مارشل لا لگانا پڑا۔

ذوالفقار علی بھٹو
ذوالفقار علی بھٹو

ضیا الحق کی بطور آرمی چیف تعیناتی اور بھٹو سے دشمنی

ضیا الحق کو آرمی چیف بنائے جانے سے متعلق ایک واقعہ سناتے ہوئے حسین نقی کا کہنا تھا کہ بھٹو صاحب کے گھر میں رہنے والے نور محمد، جو ان کے مخبر تھے، ایک بار انہوں نے بتایا تھا کہ جب ضیا الحق میجر جنرل تھے تو وہ نور محمد کے ساتھ لاڑکانہ میں بھٹو کے والد کی قبر پر گئے۔ فاتحہ پڑھی اور جھاڑو بھی لگائی جس کے بعد ضیا الحق نے نور محمد سے کہا کہ یہ سب صاحب (بھٹو) کو بھی بتانا۔

ایک اور قصہ سناتے ہوئے حسین نقی کا کہنا تھا کہ انہیں نور محمد نے بتایا کہ ایک بار ضیا الحق نے بھٹو صاحب کے جوتے اپنے رومال سے صاف کیے جس پر بھٹو صاحب مزید اکڑ گئے اور انہوں نے اپنے پاؤں اوپر کرتے ہوئے ضیا الحق سے کہا کہ ذرا صحیح سے صاف کریں۔

حسین نقی کا کہنا تھا کہ ضیا الحق نے یہ سب کچھ آرمی چیف کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے کیا اور عہدہ حاصل کرنے کے بعد ضیا الحق نے بھٹو کو معزول کر دیا۔

ضیا الحق کی بھٹو سے ذاتی دشمنی سے متعلق افتخار احمد کا کہنا ہے کہ مارشل لا لگائے جانے کے بعد بھٹو کو جب مری سے ضمانت پر چند دن کے لیے رہا کیا گیا۔ تو بھٹو نے کچھ ایسی تقاریر کیں جن سے یہ تاثر گیا کہ بھٹو مارشل لا لگانے والوں کو سبق سکھائیں گے۔

ان کے بقول بھٹو کی ان باتوں نے ضیا الحق کے دل میں خوف پیدا کردیا تھا۔

بھٹو اور ضیا الحق کے تعلقات کے بارے میں امجد شعیب کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی بھٹو سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ ضیا الحق ایک موقع پرست آدمی ہوں اور انہوں نے جب دیکھا کہ حالات ایسے ہیں کہ اگر وہ بھٹو کو ہٹا دیں تو کوئی کہرام نہیں ہو گا۔ اس وجہ سے ضیا الحق نے مارشل لا لگا دیا۔

22 جولائی 1977 کو پاکستان نیشنل الائنس نے راولپنڈی میں حکومت مخالف مظاہرہ کیا۔
22 جولائی 1977 کو پاکستان نیشنل الائنس نے راولپنڈی میں حکومت مخالف مظاہرہ کیا۔

مارشل لا کے نفاذ میں اپوزیشن کا کردار

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے امجد شعیب کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کے مارشل لا لگائے جانے میں اس وقت کی حزب اختلاف کا کلیدی کردار تھا۔

ان کے بقول ایئر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان اس وقت حزب اختلاف میں تھے۔ وہ ایک بہت اچھے ایئر چیف بھی رہ چکے تھے اور ان کی مسلح افواج میں بہت عزت تھی۔ انہوں نے تمام فوجی اداروں کو خط لکھے جو بنیادی پر طور پر بغاوت پر اکسانے کے زمرے میں آتے ہیں۔

امجد شعیب کے مطابق انہوں نے اس خط کے ذریعے بحری، بری اور فضائی افواج کو اپنے تئیں جنجھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کا چُپ رہنا ملک کو بڑی تباہی سے دو چار کرے گا کیوں کہ بھٹو جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ کرکے رہیں گے اور اس سے ہرگز باز نہیں آئیں گے۔

امجد شعیب کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن نے مبینہ انتخابی دھاندلی کا مسئلہ حل ہوتا دیکھ کر ذوالفقار علی بھٹو سے جان چھڑانے کے لیے نظامِ مصطفی کا نعرہ متعارف کرایا۔ جو عوام کو متحرک کرنے اور مارشل لا کے نفاذ کا بنیادی سبب بنا۔

مارشل لا کے موجودہ سیاسی حالات پر اثرات

حسین نقی کا کہنا تھا کہ 5 جولائی 1977 کو لگائے گئے مارشل لا کے بعد سے اب تک اسٹیبلشمنٹ سیاسی قیادت کو ڈکٹیٹ کرتی آئی ہے۔

موجودہ حالات کے بارے میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں کوئی بھی سیاسی تحریک نہیں چلنے دی اور عمران خان بھی یہی کہہ کر اقتدار میں آئے کہ 'میاں صاحب، جان دیو، ساڈی واری آن دیو۔

ان کے بقول پاکستان میں اقتدار میں آنے کے لیے اب بس باریاں لگائی جا رہی ہیں۔

موجودہ سیاسی حالات پر ضیا الحق کے مارشل لا کے اثرات سے متعلق امجد شعیب کا کہنا تھا کہ جو بھی فوجی حکومت کے لیے آتا رہا اس کے سیاسی نظام پر گہرے اثرات رہے۔ وہ جس سیاسی جماعت کو ہٹا کر اقتدار میں آتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے سیاسی جماعت کو تباہ کر دے تاکہ اس کا دوبارہ اقتدار میں آنے کا کوئی قمکان نہ رہے۔

افتخار احمد کا کہنا ہے کہ 1977 میں مارشل لا اس لیے لگایا گیا کیوں کہ منتخب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ، 2018 کی طرح ایک صفحے پر نہیں تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG