رسائی کے لنکس

logo-print

گجرات فسادات مقدمے میں 31 ہندوؤں کو عمر قید کی سزا


گجرات فسادات مقدمے میں 31 ہندوؤں کو عمر قید کی سزا

بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے گجرات میں درجنوں مسلمانوں کے قتل کے جرم میں31 ہندوؤں کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

قتل عام کے واقعات بھارتی ریاست گجرات میں پیش آئے جہاں 2002ء ملک کی تاریخ کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

عدالت نے یہ فیصلہ بدھ کے روز سنایا جب کہ 41 دیگر ملزمان کو بری کردیا گیا۔

گجرات میں گھر جل جانے کے باعث ایک عمارت میں پناہ لینے والے 33 مسلمانوں کو زندہ جلادیا گیا اور بعد میں عمارت کو آگ بھی لگا دی گئی۔

یہ واقعہ مسلم مخالف ان فسادات کا حصہ تھا جن میں تقریباً ایک سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

ان فسادات کے نتیجے میں ایک ریل گاڑی کو جلائے جانے کا واقعہ پیش آیا جس میں 59 ہندو زائرین ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں سال کے آغاز میں ایک عدالت نے ٹرین جلائے جانے کے مقدمے میں 11 افراد کو سزائے موت اور 20 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

XS
SM
MD
LG